سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 240
ة سيرة النبي علي صلى الله 225 جلد 7 تکلیف محسوس ہونے لگی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا میرا سر اٹھا کر اپنے سینہ کے ساتھ رکھ لو کیونکہ لیٹے لیٹے سانس نہیں لیا جاتا ۔ حضرت عائشہ نے آپ کا سر اٹھا کر اپنے سینہ کے ساتھ لگا لیا اور آپ کو سہارا دے کر بیٹھ گئیں ۔ موت کی تکلیف آپ پر طاری تھی ۔ آپ گھبراہٹ سے بیٹھے بیٹھے کبھی اس پہلو پر جھکتے تھے اور اور کبھی اُس پہلو پر اور فرماتے تھے خدا برا کرے یہود اور نصاری کا کہ اُنہوں نے اپنے نبیوں کے مرنے کے بعد اُن کی قبروں کو مسجد میں بنا لیا 209 ۔ یہ آپ کی آخری نصیحت تھی اپنی امت کیلئے کہ گو تم مجھے تمام نبیوں سے زیادہ شاندار دیکھو گے اور سب سے زیادہ کامیاب پاؤ گے مگر دیکھنا ! میرے بندے ہونے کو کبھی نہ بھول جانا۔ خدا کا مقام خدا ہی کو دیتے رہنا اور میری قبر کو ایک قبر سے زیادہ کبھی کچھ نہ سمجھنا۔ باقی امتیں اپنے نبیوں کی قبروں کو بیشک مسجدیں بنالیں ، وہاں بیٹھ کر چلے کیا کریں اور اُن پر چڑھاوے چڑھائیں یا نذریں دیں مگر تمہارا یہ کام نہیں ہونا چاہئے ۔ تم خدائے واحد کی پرستش کو قائم کرنے کیلئے کھڑے کئے گئے ہو۔ یہ کہتے کہتے آپ کی آنکھیں چڑھ گئیں اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے اِلَی الرَّفِيقِ الأعلى - إِلَى الرَّفِيقِ الأعلى 210 میں عرش معلی پر بیٹھنے والے اپنے مہربان دوست کی طرف جاتا ہوں۔ میں عرش معلی پر بیٹھنے والے اپنے مہربان دوست کی طرف جاتا ہوں ۔ یہ کہتے کہتے آپ کی روح اس جسم سے جدا ہوگئی ۔ آنحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کی حالت جب یہ خبر مسجد میں صحابہ علی سلام کو ملی جن میں سے اکثر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد میں آپ کی صحت کی خوشخبری سننے کے انتظار میں تھے تو اُن پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حضرت ابوبکر اُس وقت تھوڑی دیر کیلئے کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ مسجد میں تھے جب اُنہوں نے لوگوں کو یہ بات کرتے سنا لوگوں کو یہ بات کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو اُنہوں نے نیام سے تلوار نکالی اور کہا