سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 239
سيرة ة النبي علي صلى الله 224 جلد 7 اُس تکلیف کا بدلہ لے لوں ۔ وہ صحابہ جو غم کے سمندر میں ڈوب رہے تھے یکدم اُن کی حالت میں تغیر پیدا ہوا۔ ان کی آنکھوں میں سے خون ٹپکنے لگا اور ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ یہ شخص جس نے ایسے موقع پر بجائے نصیحت حاصل کرنے کے اس قسم کی بات چھیڑ دی ہے سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے مگر اُس صحابی نے پرواہ نہ کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو تمہارا حق ہے کہ بدلہ لو اور آپ نے کروٹ بدلی اور اپنی پیٹھ اُس کی طرف کر دی اور فرمایا لو میرے کہنی مارلو۔ اُس صحابی نے کہا يَا رَسُولَ الله! جب میرے کہنی لگی تھی اُس وقت میرا جسم ننگا تھا کیونکہ میرے پاس کر تہ نہ تھا کہ میں اُسے پہنتا۔ آپ نے فرمایا میرا کرتہ اٹھا دو اور ننگے جسم پر کہنی مار کر اپنا بدلہ لے لو ۔ اُس صحابی نے آپ کا کرتہ اٹھایا اور کانپتے ہوئے ہونٹوں اور آنسو بہاتی ہوئی آنکھوں سے جھک کر آپ کی کمر کو بوسہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا؟ اس نے جواب میں کہا يَا رَسُولَ الله ! جب آپ فرماتے ہیں کہ آپ کی موت قریب ہے تو آپ کو چھونے اور پیار کرنے کے مواقع ہمیں کب تک ملیں گے۔ بیشک جنگ کے موقع پر مجھے آپ کی کہنی لگی تھی لیکن کس کے دل میں اُس کہنی لگنے کا بدلہ لینے کا خیال بھی آسکتا ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آج مجھ سے بدلہ لے لو تو چلو اس بہانہ سے میں آپ کو پیار ہی کرلوں 208 ۔ وہی صحابہ جن کے دل غصہ سے خون ہو رہے تھے اس بات کو سن کر انہی کے دل اس حسرت سے بھر گئے کہ کاش! یہ موقع ہم کو نصیب ہوتا ۔ مرض بڑھتا گیا موت قریب آتی گئی ۔ مدینہ کا سورج با وجود پہلے کی سی آب و تاب سے چمکنے کے صحابہؓ کی نظروں میں اب زرد ہونے لگا۔ دن چڑھتے تھے مگر اُن کی آنکھوں پر تاریکی کے پردے پڑتے چلے جاتے تھے آخر وہ وقت آ گیا جب کہ خدا کے رسول کی روح دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے کے حضور میں حاضر ہونے والی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس تیز ہونے لگ گیا اور سانس لینے میں