سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 238
سيرة النبي علي صلى الله 223 جلد 7 کاٹنے کا کام اس کے ذمہ نہ تھا۔ وہ ایک مزدور کی حیثیت سے آیا اور ایک مزدور ہی کی حیثیت سے اسے اس دنیا سے جانا تھا کیونکہ اُس کا انعام اس دنیا کی چیزیں نہیں تھیں بلکہ اُس کا انعام اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے بھیجنے والے کی رضا تھی ۔ جب فصل کٹنے پر آئی تو اُس نے اپنے رب سے یہی خواہش کی کہ وہ اب اُسے دنیا سے اٹھالے اور یہ فصل بعد میں دوسرے لوگ کاٹیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے ، کچھ دن تو تکلیف اٹھا کر مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے آتے رہے آخر یہ طاقت بھی نہ رہی کہ آپ مسجد میں آسکتے ۔ صحابہ کبھی خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ آپ فوت ہو جائیں گے مگر آپ آپ بار بار اپنی وفات کے قرب کی خبر دیتے ۔ ایک دن صحابہؓ کی مجلس لگی ہوئی تھی کہ آپ نے فرمایا اگر کسی شخص سے غلطی ہو جائے تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا ازالہ کر دے تا کہ خدا کے سامنے شرمندہ نہ ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے نادانستہ طور پر کسی کا حق مارا گیا ہو تو وہ مجھ سے اپنا حق مانگ لے۔ اگر بے جانے بوجھے مجھ سے ہے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو آج وہ مجھ سے بدلہ لے لے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ خدا تعالیٰ کو کے سامنے میں شرمندہ ہوں ۔ دوسرے صحابہ پر تو یہ بات سن کر رقت طاری ہو گئی اور ان کے دل میں یہی خیال گزرنے لگے کہ کس طرح تکلیف اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے آرام کی صورت پیدا کرتے رہے ہیں ۔ کس طرح آپ بھوکا رہ کر ان کو کھلاتے رہے ہیں ۔ اپنے کپڑوں کو پیوند لگا کر اُن کو کپڑے پہناتے رہے ہیں پھر بھی دوسروں کے حقوق کا آپ کو اتنا خیال ہے کہ آپ اُن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر بے جانے بوجھے مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو آج مجھ سے بدلہ لے لے ۔ مگر ایک صحابی آگے بڑھے اور اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! مجھے آپ سے ایک دفعہ تکلیف پہنچی تھی ۔ جنگ کی صفیں تیار ہو رہی تھیں کہ آپ صف میں سے ہو کر آگے بڑھے اُس وقت آپ کی کہنی میرے جسم کو لگ گئی ۔ چونکہ آپ نے فرمایا کہ بے جانے بوجھے بھی اگر کسی کو نقصان پہنچا ہو تو مجھ سے بدلہ لے لے تو میں چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ سے