سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 237
صلى الله سيرة النبي علي 222 جلد 7 حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے کہا اس بڑھے کو کیا ہو گیا کہ یہ خوشی کی خبر پر روتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ ابو بکر ہی آپ کی بات کو صحیح سمجھتا ہے اور اُس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس سورۃ میں میری وفات کی خبر ہے۔ آپ نے فرمایا ابوبکر مجھ کو بہت ہی پیارا ہے۔ اگر ہر دوسرے وجود سے پیار کرنا صرف خدا کی ذات سے مخصوص نہ ہوتا تو میں ابوبکر سے ایسا ہی پیار کرتا ۔ اے لوگو ! مسجد میں جتنے لوگوں کے دروازے کھلتے ہیں آج سے سب دروازے بند کر دیئے جائیں صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رہے 206 ۔ اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوں گے اور نماز پڑھانے کے لئے انہیں مسجد میں اس راستہ سے آنا پڑے گا۔ اس واقعہ کے مدتوں بعد جب حضرت عمر خلیفہ تھے ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا بتاؤ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ والی سورۃ میں سے کیا مضمون نکلتا ہے؟ گویا اس مضمون کے متعلق آپ نے اپنے ہم مجلسوں کا امتحان لیا جس کے سمجھنے سے وہ اس سورۃ کے نزول کے وقت قاصر رہے تھے ۔ ابن عباس جو اس واقعہ کے وقت دس گیارہ برس کے تھے اُس وقت کوئی 17 ، 18 سال کے نوجوان تھے باقی صحابہ تو نہ بتا سکے ابن عباس نے کہا اے امیر المؤمنین ! اس سورۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دی گئی ہے کیونکہ نبی جب اپنا کام کر لیتا ہے تو پھر دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا۔ حضرت عمرؓ نے کہا سچ ہے میں تمہاری ذہانت کی داد دیتا ہوں 207 ۔ جب یہ سورۃ نازل ہوئی ابوبکر نے اس کا مفہوم سمجھا مگر ہم نہ سمجھ سکے ۔ آخر وہ دن آگیا جو ہر انسان پر آتا ہے ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام دنیا میں ختم کر چکے ، خدا کی وحی تمام و کمال نازل ہو چکی ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ سے ایک نئی قوم اور ایک نئے آسمان اور نئی زمین کی بنیاد ڈال دی گئی ۔ بونے والے نے زمین میں ہل چلایا، پانی دیا اور بیج بویا اور فصل تیار کی ۔ اب فصل کے یا ۔