سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 236

سيرة ة النبي علي صلى الله 221 جلد 7 صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ ایک ہی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اُس کے بندے اور رسول ہیں اور کہ جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور یہ کہ موت بھی ہر انسان کو ضرور آنی ہے اور موت کے بعد زندگی بھی ہر انسان کو ضرور ملے گی اور یہ کہ قیامت بھی ضرور آنے والی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کو قبروں میں سے دوبارہ زندہ کر کے اکٹھا کرے گا ۔ انہوں نے کہا ہاں يَا رَسُولَ اللہ ! ہم اس کی گواہی دیتے ہیں ۔ اس پر آپ نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے اللہ ! تو بھی گواہ رہ کہ میں نے انہیں اصولِ اسلام پہنچا دیئے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حج سے واپس آنے کے بعد برابر مسلمانوں کے اخلاق اور ان کے اعمال کی اصلاح میں مشغول رہے اور مسلمانوں کو اپنی وفات کے دن کی امید کے لئے تیار کرتے رہے ۔ ایک دن آپ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا آج مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ اُس دن کو یاد کرو جب خدا تعالیٰ کی نصرتیں اور اُس کی طرف سے فتوحات گزشتہ زمانہ سے بھی زیادہ زور سے آئیں گی اور ہر قوم وملت کے لوگ اسلام میں فوج در فوج داخل ہونے شروع ہوں گے ۔ پس اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب تم خدا تعالیٰ کی تعریف میں لگ جاؤ اور اُس سے دعا کرو کہ دین کی بنیاد جو تم نے قائم کی ہے اس میں سے ہر قسم کے رخنوں کو خدا تعالی دور کر دے۔ اگر تم یہ دعائیں کرو گے تو خدا تعالیٰ ضرور تمہاری دعاؤں کو سنے گا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اپنے ایک بندے سے کہا کہ خواہ تم ہمارے پاس آجاؤ اور خواہ تم دنیا کی اصلاح کا کام بھی کچھ اور مدت کرو۔ اور خدا کے اس بندے نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے آپ کے پاس آنا زیادہ پسند ہے۔ جب آپ نے یہ بات مجلس میں سنائی تو حضرت ابوبکر رو پڑے۔ صحابہ کو تعجب ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلام کی فتوحات کی خبر سنا رہے اور ابوبکر رو رہے ہیں۔