سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 235

سيرة ة النبي علي صلى الله 220 جلد 7 دنیا کی دوسری قو میں اس کی مثال پیش نہیں کر سکتیں ۔ ہماری مسجد میں ایک بادشاہ اور ایک معزز ترین مذہبی پیشوا اور ایک عامی برابر ہیں ان میں کوئی فرق اور امتیاز قائم نہیں کر سکتا ۔ جبکہ دوسرے مذاہب کے معبد بڑوں اور چھوٹوں کے امتیاز کو اب تک ظاہر کرتے چلے آئے ہیں ۔ گو وہ قو میں شاید حریت اور مساوات کا دعویٰ مسلمانوں سے بھی زیادہ بلند آواز سے کر رہی ہیں ۔ صلى الله سلام P آنحضرت ﷺ کی وفات جب اس سفر سے آپ واپس آ رہے تھے تو راستہ میں پھر آپ نے اپنے صحابہؓ کو اپنی وفات کی خبر دی ۔ آپ نے فرمایا اے لوگو! میں تمہاری طرح کا ایک آدمی ہوں قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغامبر میری طرف آئے اور مجھے اُس کا جواب دینا پڑے۔ پھر فرمایا اے لوگو! مجھے میرے مہربان اور خبردار آقا نے خبر دی ہے کہ نبی اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر پاتا ہے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر 120 سال کے قریب تھی اور اس سے آپ نے استدلال کیا کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہو گی 205 ۔ چونکہ اُس وقت آپ کی عمر باسٹھ تریسٹھ سال کی تھی آپ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ میری عمر اب ختم ہونے والی معلوم ہوتی ہے۔ اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ ہر نبی اپنے سے پہلے آنے والے نبی سے آدھی عمر پاتا ہے بلکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر اور اپنی عمر کا مقابلہ کیا ہے ) اور مجھے خیال ہے کہ اب جلدی مجھے بلایا جائے گا اور میں فوت ہو جاؤں گا ۔ اے میرے صحابہ ! مجھ سے بھی خدا کے سامنے سوال کیا جائے گا اور تم سے بھی سوال کیا جائے گا تم اُس وقت کیا کہو گے؟ اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! ہم کہیں گے کہ آپ نے خوب اچھی طرح اسلام کی تبلیغ کی اور آپ نے اپنی زندگی کو گلی طور پر خدا کے دین کی خدمت کے لئے لگا دیا اور آپ نے بنی نوع انسان کی خیر خواہی کو کمال تک پہنچا دیا ۔ اللہ آپ کو ہماری طرف سے بہتر سے بہتر بدلہ دے۔ رسول اللہ