سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 234
صلى الله سيرة النبي علي 219 نے سے جلد 7 نے نہ چاہا کہ وہ عورتیں جو انسانی پیدائش کے شروع سے مردوں کی غلام قرار دی جاتی تھیں ان کے حقوق کو محفوظ کرنے کا حکم دینے سے پہلے آپ اس دنیا سے گزر جائیں۔ کے کے وہ جنگی قیدی جن کو لوگ غلام کا نام دیا کرتے تھے اور طرح طرح کے مظالم ان پر کیا کرتے تھے آپ نے نہ چاہا کہ ان کے حقوق کو محفوظ کر دینے سے پہلے آپ اس دنیا سے گزر جائیں ۔ وہ بنی نوع انسان کا باہمی فرق اور امتیاز جو انسانوں میں سے بعض کو تو آسمان پر چڑھا دیتا تھا اور بعض کو تحت الثریٰ میں گرا دیتا تھا، جو قوموں قوموں اور ملکوں ملکوں کے درمیان تفرقہ اور لڑائی پیدا کرنے اور اس کو جاری رکھنے کا موجب ہوتا تھا آپ نے نہ چاہا کہ جب تک اس تفرقہ اور امتیاز کو آپ مٹا نہ دیں اس دنیا سے گزر جائیں ۔ وہ ایک دوسرے کے حقوق پر چھاپے مارنا اور ایک دوسرے کی جان اور مال کو اپنے لئے جائز سمجھنا جو ہمیشہ ہی بداخلاقی کے زمانہ میں انسان کی سب سے بڑی لعنت ہوتا ہے آپ نے نہ چاہا کہ جب تک اس روح کو کچل نہ دیں اور جب تک پلے نہ بنی نوع انسان کی جانوں اور ان کے مالوں کو وہی تقدس اور وہی حرمت نہ بخش دیں جو خدا تعالیٰ کے مقدس مہینوں اور خدا تعالیٰ کے مقدس اور بابرکت مقاموں کو حاصل ہے آپ اس دنیا سے گزر جائیں۔ کیا عورتوں کی ہمدردی ، ماتحت لوگوں کی ہمدردی ، بنی نوع انسان میں امن اور آرام کے قیام کی خواہش اور بنی نوع انسان میں مساوات کے قیام کی خواہش اتنی شدید دنیا کے کسی اور انسان میں پائی جاتی ہے؟ کیا آدم سے لے کر آج تک کسی انسان نے بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی کا ایسا جذبہ اور ایسا جوش دکھایا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں آج تک عورت اپنی جائیداد کی مالک ہے جبکہ یورپ نے اس درجہ کو اسلام کے تیرہ سو سال بعد حاصل کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے والا ہر شخص دوسرے کے برابر ہو جاتا ہے خواہ وہ کیسی ہی ادنی اور ذلیل سمجھی جانے والی قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ حریت اور مساوات کا جذ بہ صرف اور صرف اسلام نے ہی دنیا میں قائم کیا ہے اور ایسے رنگ میں قائم کیا ہے کہ آج تک بھی اور اسے رنگ میں قائم کیا ہے کہ آج تک بھی