سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 233

صلى الله سيرة النبي علي 218 جلد 7 کیونکہ وہ خدا کے بندے ہیں اور ان کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ اے لوگو! جو کچھ میں تمہیں کہتا ہوں سنو اور اچھی طرح اس کو یاد رکھو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تم سب ایک ہی درجہ کے ہو ۔ تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا دیں اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں برابر ہیں اسی طرح تم بنی نوع انسان آپس میں برابر ہو۔ تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ تم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو۔ پھر فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے آج کون سا مہینہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ علاقہ کون سا ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ دن کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں ! یہ مقدس مہینہ ہے ، یہ مقدس علاقہ ہے اور یہ حج کا دن ہے۔ ہر جواب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے، جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے ، جس طرح یہ دن مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اُس کے مال کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی نا جائز ہے جیسے کہ اس مہینے اور اس علاقہ اور اس دن کی ہتک کرنا ۔ یہ حکم آج کیلئے نہیں ، کل کیلئے نہیں بلکہ اُس دن تک کیلئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو۔ پھر فرمایا یہ باتیں جو میں تمہیں آج کہتا ہوں ان کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں اُن کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے نہیں سن رہے 204 ۔ 66 یه مختصر خطبہ بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نوع انسان کی بہتری اور ان کا امن کیسا مد نظر تھا اور عورتوں اور کمزوروں کے حقوق کا آپ کو کیسا خیال تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محسوس کر رہے تھے کہ اب موت قریب آ رہی ہے غریب آرہی ہے شاید اللہ تعالیٰ آپ کو بتا چکا تھا کہ اب آپ کی زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں آپ