سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 244

صلى الله سيرة النبي علي 229 جلد 7 سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 216- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بیان کرنے کے بعد اب میں آپ کے اخلاق کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ کے اخلاق حسنہ کے متعلق مجموعی شہادت وہ ہے جو آپ کی قوم نے دی کہ آپ کی نبوت کے دعوی سے پہلے آپ کی قوم نے آپ کا نام امین اور صدیق رکھا 216 ۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت ہوتے ہیں جن کی نسبت بد دیانتی کا ثبوت نہیں ملتا۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت ہوتے ہیں جن کی ز ایسے لوگ بھی بہت ہوتے ہیں جن کو کسی کڑی آزمائش میں سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ہاں معمولی آزمائشوں سے وہ گزرتے ہیں اور ان کی امانت قائم رہتی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی قوم ان کو کوئی خاص نام نہیں دیتی ۔ اس لئے کہ خاص نام اُسی وقت دیئے جاتے ہیں جب کوئی شخص کسی خاص صفت میں دوسرے تمام لوگوں پر فوقیت لے جاتا ہے ۔ لڑائی میں شامل ہونے والا ہر سپاہی اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے لیکن نہ انگریزی قوم ہر سپاہی کو وکٹوریہ کر اس دیتی ہے نہ جرمن قوم ہر سپاہی کو آئرن کر اس دیتی ہے۔ فرانس میں علمی مشغلہ رکھنے والے لوگ لاکھوں ہیں لیکن ہر شخص کو لیجن آف آنر (Legion of Honour) کا فیتہ نہیں ملتا۔ پس محض کسی شخص کا امانت دار اور صادق ہونا اُس کی عظمت پر خاص روشنی نہیں ڈالتا لیکن کسی شخص کو ساری نوساری قوم کا امین اور صدیق کا خطاب دے دینا یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ اگر مکہ کے لوگ ہر نسل کے لوگوں میں سے کسی کو امین اور صدیق کا خطاب دیا کرتے تب بھی امین اور صدیق کا خطاب پانے والا بہت بڑا آدمی سمجھا جاتا لیکن عرب کی تاریخ بتاتی ہے