سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 230

صلى الله سيرة النبي علي 215 جلد 7 دیکھی جائیں گی ۔ وہ صحابی فوراً گھر سے باہر نکل گئے ، اپنی سواری پر زین کسی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین منزل پر جا کر مل گئے ۔ شکروں پر کفار تو یہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان افواہوں کی بناء پر بے سوچے سمجھے شامی جا پڑیں گے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلامی اخلاق کے تابع تھے جب آپ شام کے قریب تبوک مقام پر پہنچے تو آپ نے ادھر اُدھر آدمی بھیجے تا کہ وہ معلوم کریں کہ حقیقت کیا ہے اور یہ سب سفراء متفقہ طور پر یہ خبریں لائے کہ کوئی شامی لشکر اس وقت جمع نہیں ہو رہا۔ اس پر کچھ دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے اور ارد گرد کے بعض قبائل سے معاہدات کر کے بغیر لڑائی کے واپس آگئے ۔ یہ کل سفر آپ کا دو اڑھائی مہینے کا تھا۔ جب مدینہ کے منافقوں کو معلوم ہوا کہ لڑائی بھڑائی تو کچھ نہیں ہوئی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے واپس آ رہے ہیں تو انہوں نے سمجھ لیا کہ ہماری منافقانہ چالوں کا راز اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہو گیا ہے اور غالبا اب ہم سزا سے نہیں بچیں گے ۔ تب انہوں نے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر چند آدمی ایک ایسے رستہ پر بٹھا دیئے جو نہایت تنگ تھا اور جس پر صرف ایک ایک سوار گزرسکتا تھا۔ جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے وحی سے بتا دیا کہ آگے دشمن راستہ کے دونوں طرف چھپا بیٹھا ہے۔ آپ نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ جاؤ اور وہاں جا کر دیکھو۔ وہ سواری کو تیز کر کے وہاں پہنچے تو انہوں نے وہاں چند آدمی چھپے ہوئے دیکھے جو اس طرح چھے بیٹھے تھے جیسا کہ حملہ کرنے والے بیٹھا کرتے ہیں۔ ان کے پہنچنے پر وہ وہاں سے بھاگ گئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تعاقب کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ جب آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں نے جو اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے قسم قسم کی معذرتیں کرنی شروع کر دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو قبول کر لیا۔ لیکن اب وقت آگیا تھا کہ منافقوں کی حقیقت کو مسلمانوں پر آشکار کر دیا جاتا۔