سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 229

صلى الله سيرة النبي علي 214 جلد 7 وہاں پہنچانے کا کوئی سامان نہیں ۔ تب وہ تیری مجلس سے اٹھ کر چلے گئے اور اُن کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہتے تھے کہ افسوس ان کے پاس کوئی مال نہیں جس کو خرچ کہ کوخرچ کر کے وہ آج اسلامی خدمت کر سکیں ۔ ابو موسیٰ ان لوگوں کے سردار تھے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مانگا تھا ؟ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم ! ہم نے اونٹ نہیں مانگے ، ہم نے گھوڑے نہیں مانگے ، ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ ہم ننگے پاؤں ہیں اور اتنا لمبا سفر پیدل نہیں چل سکتے اگر ہم کو صرف جوتیوں کے جوڑے مل جائیں تو ہم جوتیاں پہن کر ہی بھاگتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہونے کے لئے پہنچ جائیں گے 202 ۔ چونکہ لشکر کو شام کی طرف جانا تھا اور موتہ کی جنگ کا نظارہ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھا اس لئے ہر مسلمان کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کا خیال سب خیالوں پر مقدم تھا۔ عورتیں تک بھی اس خطرہ کو محسوس کر رہی تھیں اور اپنے خاوندوں اور اپنے بیٹوں کو جنگ پر جانے کی تلقین کر رہی تھیں ۔ اس اخلاص اور اس جوش کا اندازہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک صحابی جو کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے اُس وقت واپس لوٹے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت مدینہ سے روانہ ہو چکے تھے۔ ایک عرصہ کی جدائی کے بعد جب وہ اس خیال سے اپنے گھر میں داخل ہوئے کہ اپنی محبوبہ بیوی کو جا کر دیکھیں گے اور خوش ہوں گے تو انہوں نے اپنی بیوی کو صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا اور محبت سے بغل گیر ہونے اور اسے پیار کرنے کے لئے تیزی سے اس کی طرف آگے بڑھے ۔ جب وہ بیوی کے قریب گئے تو اُن کی بیوی نے دونوں ہاتھوں سے اُن کو دھکا دے کر پیچھے ہٹا دیا۔ اُس صحابی نے حیرت سے اپنی بیوی کا منہ دیکھا اور پوچھا اتنی مدت کے بعد ملنے پر آخر یہ سلوک کیوں؟ بیوی نے کہا کیا تم کو شرم نہیں آتی خدا کا رسول اُس خطرہ کی جگہ پر جا رہا ہے اور تم اپنی بیوی سے پیار کرنے کی جرات کرتے ہو! پہلے جاؤ اور اپنا فرض ادا کرو اس کے بعد یہ باتیں