سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 228
صلى الله سيرة النبي علي 213 الله جلد 7 ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ شامی فوجیں آ رہی ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو ڈرا رہے تھے کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ آسان نہیں تمہیں جنگ کے لئے نہیں جانا چاہئے ۔ ان کارروائیوں سے ان کی غرض یہ تھی کہ مسلمان شام پر حملہ کرنے کے لئے جائیں تو سہی لیکن جتنی کم تعداد میں ہو سکے جائیں تاکہ ان کی شکست زیادہ سے زیادہ یقینی ہو جائے ۔ مگر مسلمان رسول اللہ ﷺ کے اس اعلان پر کہ ہم شام کی طرف جانے والے ہیں اخلاص اور جوش سے بڑھ بڑھ کر قربانیاں کر رہے تھے۔ غریب مسلمانوں کے پاس جنگ کے سامان تھے کہاں؟ حکومت کا خزانہ بھی خالی تھا۔ ان کے آسودہ حال بھائی ہی ان کی مدد کے لئے آسکتے تھے۔ چنانچہ ہر شخص قربانی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ حضرت عثمان نے اُس دن اپنے روپے کا اکثر حصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا جو ایک رض 1 الله ہزار سونے کا دینا ر تھا یعنی قریباً پچیس ہزار روپیہ ۔ اسی طرح اور صحابہؓ نے اپنی اپنی توفیق کے مطابق چندے دیئے اور غریب مسلمانوں کے لئے سواریاں یا تلواریں یا نیزے مہیا کئے گئے ۔ صحابہ میں قربانی کا اس قدر جوش تھا کہ یمن کے کچھ لوگ جو اسلام لا کر مدینہ میں ہجرت کر آئے تھے اور بہت ہی غربت کی حالت میں تھے ان کے کچھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا يَا رَسُولَ الله ! ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلیے ہم کچھ اور نہیں چاہتے ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں وہاں تک پہنچنے کا سامان مل جائے ۔ قرآن کریم میں ان لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنَا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ 201 - یعنی اس جنگ میں شریک نہ ہونے کا ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو تیرے پاس اس لئے آئے تھے کہ تو ان کے لئے ایسا سامان مہیا کر دے کہ جس کے ذریعہ سے وہ وہاں پہنچ سکیں مگر تو نے انہیں کہا کہ میرے پاس تو تمہیں