سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 227
ة سيرة النبي علي صلى الله 212 جلد 7 کے منافقوں کے ساتھ مل کر یہ تجویز کی کہ میں شام میں جا کر عیسائی حکومت اور عرب عیسائی قبائل کو بھڑکاتا ہوں اور اُن کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تحریک کرتا ہوں ۔ ادھر تم یہ تا پرحملہ ۔ مشہور کرنا شروع کر دو کہ شامی فوجیں مدینہ پر حملہ کر رہی ہیں ۔ اگر میری سکیم کا میاب ہو گئی تو پھر بھی ان دونوں کی مڈھ بھیڑ ہو جائے گی اور اگر میری سکیم کامیاب نہ ہوئی تو ان افواہوں کی وجہ سے مسلمان شاید شام پر جا کر خود حملہ کر دیں اور اس طرح قیصر کی حکومت اور ان میں لڑائی شروع ہو جائے گی اور ہمارا کام بن جائے گا۔ چنانچہ یہ تحریک کر کے یہ شخص شام کی طرف گیا اور مدینہ کے منافقوں نے روزانہ مدینہ میں یہ خبریں مشہور کرنی شروع کر دیں کہ فلاں قافلہ ہمیں ملا تھا اور اُس نے بتایا تھا کہ شامی لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ دوسرے دن پھر کہہ دیتے تھے کہ فلاں قافلہ کے لوگ ہمیں ملے تھے اور اُنہوں نے کہا تھا کہ مدینہ پر شامی لشکر چڑھائی کرنے والا ہے۔ یہ خبریں اتنی شدت سے پھیلنی شروع ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ اسلامی لشکر لے کر خود شامی لشکروں کے مقابلہ کے لئے جائیں۔ یہ وقت مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف کا تھا۔ قحط کا سال تھا پچھلے موسم میں غلہ اور پھل کم پیدا ہوا تھا اور اس موسم کی اجناس ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں ۔ ستمبر کا آخر یا اکتوبر کا شروع تھا جب آپ اس مہم کے لئے روانہ ہوئے ۔ منافق تو جانتے تھے کہ یہ سب شرارت ہے اور یہ کہ انہوں نے یہ سب چالا کی اس لئے کی ہے کہ اگر شامی لشکر حملہ آور نہ ہوا تو مسلمان خود شامیوں سے جا لڑیں اور اس طرح تباہ ہو جائیں ۔ موتہ کی لشکر کا سامنا جنگ کے حالات ان کے سامنے تھے اُس وقت مسلمانوں کو اتنے کو اتنے بڑے لشکر کا کرنا پڑا تھا کہ وہ بہت کچھ نقصان اٹھا کر بمشکل بچے تھے ۔ اب وہ ایک دوسری موتہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نَعُوذُ بِاللہ شہید ہو جائیں اس لئے ایک طرف تو منافق لوگوں میں روزانہ یہ خبریں پھیلاتے تھے کہ فلاں ذریعہ سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دشمن حملہ کرنے والا ہے فلاں