سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 226
سيرة النبي علي صلى الله 211 جلد 7 اس کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے کیا ایسا شخص سزا کا مستحق نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ میں لوگوں سے ان کے دلوں کے خیالات کے مطابق معاملہ کروں ۔ مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اُن کے ظاہر کے مطابق معاملہ کروں ۔ پھر آپ نے فرمایا یہ اور اس کے ساتھی ایک دن اسلام سے بغاوت کریں گے 200 ۔ چنانچہ حضرت علیؓ کے زمانہ میں یہ شخص اور اس کے قبیلہ کے لوگ ان باغیوں کے سردار تھے جنہوں نے حضرت علیؓ سے بغاوت کی اور خوارج کے نام سے آج تک مشہور ہیں ۔ - ہوازن سے فارغ ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے ۔ یہ مدینہ والوں کے لئے پھر ایک نیا خوشی کا دن تھا۔ ایک دفعہ خدا کا رسول مکہ کے لوگوں کے ظلم سے تنگ آکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا تھا اور آج خدا کا رسول مکہ فتح کرنے کے بعد اپنی خوشی سے اور اپنے عہد کو نبھانے کے لئے دوبارہ مدینہ میں داخل ہو رہا تھا۔ غزوہ تبوک جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابو عامر مدنی جو خزرج قبیلہ میں سے تھا اور یہودیوں اور عیسائیوں سے میل ملاقات کی وجہ سے ذکر و وظائف کرنے کا عادی تھا اور اس کی وجہ سے لوگ اس کو راہب کہتے تھے مگر وہ مذہباً عیسائی نہیں تھا۔ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں پہنچ جانے کے بعد مکہ کی طرف بھاگ گیا تھا۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے جب مکہ بھی فتح ہو گیا تو اس شخص نے سوچا کہ اب مجھے اسلام کے خلاف شورش پیدا کرنے کے لئے کوئی اور تدبیر کرنی چاہئے ۔ آخر اس نے اپنا نام اور طرز بدلی اور مدینہ کے پاس قبا نامی گاؤں میں جا کر رہنا شروع کیا۔ سالہا سال باہر رہنے کی وجہ سے اور کچھ شکل اور لباس میں تبدیلی کر لینے کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے عام طور پر اس کو نہ پہچانا۔ صرف وہی کر وجہ سے منافق اس کو جانتے تھے جن کے ساتھ اس نے اپنا تعلق پیدا کر لیا تھا۔ اس نے مدینہ