سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 225

صلى الله سيرة النبي علي 210 جلد 7 پاؤ مروڑنی شروع کی کہ آپ کا سانس رکنے لگا ۔ آپ نے فرمایا اے لوگو! اگر میرے پاس کچھ اور ہوتا تو میں وہ بھی تمہیں دے دیتا تم مجھے کبھی بخیل یا بز دل نہیں گے 199 ۔ پھر آپ اپنی اونٹنی کے پاس گئے اور اس کا ایک بال توڑا اور اسے اونچا کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے تمہارے مالوں میں سے اس بال کے برابر بھی ضرورت نہیں سوائے اُس پانچویں حصہ کے جو عرب کے قانون کے مطابق حکومت کا حصہ ہے اور وہ پانچواں حصہ بھی میں اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتا بلکہ وہ بھی تم ہی لوگوں کے کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اور یاد رکھو کہ خیانت کرنے والا انسان قیامت کے دن خدا کے حضور اس خیانت کی وجہ سے ذلیل ہوگا۔ لوگ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہت کے خواہشمند تھے۔ کیا بادشاہوں اور عوام کا ایسا ہی تعلق ہوا کرتا ہے؟ کیا کسی کی طاقت ہوتی ہے کہ بادشاہ کو اس طرح دھکیلتا ہوا لے جائے اور اس کے گلے میں پڑکا ڈال کر اُس کو گھونٹے؟ اللہ کے رسولوں کے سوا یہ نمونہ کون دکھا سکتا ہے۔ مگر باوجود اس طرح تمام اموال غرباء میں تقسیم میں کرنے کے پھر بھی ایسے سنگدل لوگ موجود تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کو انصاف کی تقسیم نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ ذوالخویصرہ نامی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) جو کچھ آپ نے آج کیا ہے وہ میں نے دیکھا ہے ۔ آپ نے فرمایا تم نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا میں نے یہ دیکھا ہے کہ آپ نے آج ظلم کیا ہے اور انصاف سے کام نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا تم پر افسوس ! اگر میں نے عدل نہیں کیا تو پھر اور کون انسان دنیا میں عدل کرے گا۔ اُس وقت صحابه جوش میں کھڑے ہو گئے اور جب یہ شخص مسجد سے اٹھ کر گیا تو ان میں سے بعض نے کہا يَا رَسُولَ الله! یہ شخص واجب القتل ہے کیا آپ ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم اسے مار دیں؟ آپ نے فرمایا اگر یہ شخص قانون کی پابندی کرتا ہے تو ہم اس کو کس طرح مار سکتے ہیں ۔ صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ایک شخص ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور