سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 224
سيرة ة النبي علي صلى الله 209 جلد 7 پھر آپ نے فرمایا شیبہ ! آگے بڑھو اور لڑو۔ تب میں آگے بڑھا اور اُس وقت میرے دل میں سوائے اس کے کوئی خواہش نہیں تھی کہ میں اپنی جان قربان کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچاؤں ۔ اگر اُس وقت میرا باپ زندہ ہوتا اور میرے سامنے آجاتا تو میں اپنی تلوار اُس کے سینہ میں بھونک 197 دینے سے ایک ذرہ دریغ نہ کرتا 198 ۔ اس کے بعد آپ طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ وہی شہر جس کے باشندوں نے پتھراؤ کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر سے نکال دیا تھا اُس شہر کا آپ نے کچھ عرصہ تک محاصرہ کیا لیکن پھر آپ کو بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ محاصرہ کر کے وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں سارے عرب میں اب یہ شہر کر ہی کیا سکتا ہے چنانچہ آپ محاصرہ چھوڑ کر چلے آئے اور کچھ عرصہ کے بعد طائف کے لوگ بھی مسلمان ہو گئے ۔ فتح مکہ اور حنین کے بعد ان جنگوں سے فارغ ہونے کے بعد وہ اموال جو مغلوب دشمنوں کے جرمانوں اور میدان جنگ میں چھوڑی ہوئی چیزوں سے جمع ہوئے تھے حسب دستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر میں تقسیم کرنے تھے۔ لیکن اس موقع پر آپ نے بجائے ان اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے مکہ اور اردگرد کے لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ ان لوگوں کے اندرا بھی ایمان تو پیدا نہیں ہوا تھا بہت سے تو ابھی کافر ہی تھے اور جو مسلمان تھے وہ بھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے یہ ان کے لئے بالکل نئی چیز تھی کہ ایک قوم اپنا مال دوسرے لوگوں میں بانٹ رہی ہے۔ اس مال کی تقسیم سے بجائے ان کے دل میں نیکی اور تقومی پیدا ہونے کے ان کے دلوں میں حرص اور بھی بڑھ گئی ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمگھٹا ڈال لیا اور مزید مطالبات کے ساتھ آپ کو تنگ کرنا شروع کیا یہاں تک کہ دھکیلتے ہوئے وہ آپ کو ایک درخت تک لے گئے اور ایک شخص نے تو آپ کی چادر جو آپ کے کندھوں پر رکھی ہوئی تھی پکڑ کر اس طرح