سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 223

صلى الله سيرة النبي علي 208 جلد 7 سے خوش ہو جائیں ۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کی وہ تمام دشمنیاں معاف کرے جو کہ اس نے مجھ سے کی ہیں ۔ ابوسفیان کہتے ہیں اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا اے بھائی ! تب میں نے جوش محبت سے آپ کے اُس پیر کو جو خچر کی رکاب میں تھا چوم لیا 196 ۔ صلى الله ۔ فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے وہ جنگی سامان جو آپ نے عارية لیا تھا اُس کے مالکوں کو واپس کیا اور ساتھ اُس کے بہت سا انعام واکرام بھی دیا تو ان لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ شخص اس زمانہ کے عام انسانوں جیسا نہیں ۔ چنانچہ صفوان اُسی وقت اسلام لے آئے ۔ اس جنگ کا ایک اور عجیب واقعہ بھی تاریخوں میں آتا ہے۔ شیبہ نامی ایک شخص جو مکہ کے رہنے والے تھے اور جو خانہ کعبہ کی خدمت کے لئے مقرر تھے وہ کہتے ہیں میں بھی اس لڑائی میں شامل ہوا مگر میری نیت یہ تھی کہ جس وقت لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقع پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا اور میں نے دل میں کہا عرب اور غیر عرب تو الگ رہے اگر ساری دنیا بھی محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب میں داخل ہو گئی تو میں تو نہیں ہونے کا۔ جب لڑائی تیزی پر ہوئی اور اِدھر کے آدمی اُدھر کے آدمیوں میں مل گئے تو میں نے تلوار کھینچی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع ہوا ۔ اُس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ اٹھ رہا ہے جو قریب ہے کہ مجھے بھسم کر دے۔ اُس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ شیبہ ! میرے قریب ہو جاؤ۔ میں جب آپ کے قریب گیا تو آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کہا اے خدا ! شیبہ کو شیطانی خیالوں سے نجات دے۔ شیبہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پھیرنے کے ساتھ ہی میرے دل سے ساری دشمنیاں اور عداوتیں اڑ گئیں اور اُس وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنی آنکھوں سے اور اپنے کانوں سے اور اپنے دل سے زیادہ عزیز ہو گئے ۔