سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 222

صلى الله سيرة النبي علي چل پڑے 195 ۔ 207 جلد 7 وہ صحابی کہتے ہیں اُس دن انصار اس طرح دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جارہے تھے جس طرح اونٹنیاں اور گائیں اپنے بچے کے چیخنے کی آواز کو سن کر اس کی طرف دوڑ پڑتی ہیں اور تھوڑی دیر میں صحابہ اور خصوصاً انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور دشمن کو شکست ہوگئی ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا یہ نشان ہے کہ وہ شخص جو چند ہی دن پہلے آپ کی جان کا دشمن تھا اور آپ کے مقابلہ پر کفار کے لشکروں کی کمان کیا کرتا تھا یعنی ابوسفیان وہ آج حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب کفار کے اونٹ پیچھے کی طرف دوڑے تو ابوسفیان جو نہایت ہی زیرک اور ہوشیار آدمی تھا اُس نے یہ سمجھ کر کہ میرا گھوڑا بھی برک جائے گا فوراً اپنے گھوڑے سے چھلانگ لگادی اور پیدل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی رکاب پکڑے ہوئے آپ کے بل اللہ کی کی ساتھ چل پڑا۔ پڑا۔ ابوسفیان ابو سفیان کا کا بیان ہے ہے کہ اُس اسوقت وقت بھی کھچی ہوئی تلوار میرے ہاتھ میں میں تھی اور مجھے اللہ ہی کی قسم ہے جو دلوں کے راز جانتا ہے کہ میں اُس وقت عزم صمیم کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کے ساتھ پہلو میں کھڑا تھا کہ کوئی شخص مجھے مارے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حیرت کے ساتھ دیکھ رہے تھے ( شاید آپ سوچ رہے تھے کہ آج سے صرف دس پندرہ دن پہلے یہ شخص میرے قتل کے لئے اپنی فوج کو لے کر مکہ سے نکلنے والا تھا لیکن چند ہی دنوں میں خدا تعالیٰ نے اس کے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر دی ہے کہ یہ مکہ کا کمانڈر ایک عام سپاہی کی حیثیت میں میری خچر کی رکاب پکڑے کھڑا ہے اور اس کا چہرہ بتا رہا ہے کہ یہ آج اپنی موت سے اپنے گناہوں کا ازالہ کرے گا ) عباس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیرت سے ابوسفیان کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ ابوسفیان آپ کے چچا کا بیٹا اور آپ کا بھائی ہے آج تو آپ اس