سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 221

ة سيرة النبي علي صلى الله 206 جلد 7 تھی ۔ اُس وقت وقت حضرت ابوبکرؓ نے اپنی سوار نے اپنی سواری سے اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کی لی ۔ خچر کی باگ پکڑ لی اور عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! تھوڑی دیر کے لئے پیچھے ہٹ آئیں یہاں یہ تک کہ اسلامی لشکر جمع ہو جائے ۔ آپ نے فرمایا ابوبکر ! میری خچر کی باگ چھوڑ دو اور پھر خچر کو ایڑی لگاتے ہوئے آپ نے اُس تنگ راستہ پر آگے بڑھنا شروع کیا جس کے دائیں بائیں کمین گاہوں میں بیٹھے ہوئے سپاہی تیراندازی کر رہے تھے اور فرمایا أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب انا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ 194 میں خدا کا نبی ہوں میں جھوٹا نہیں ہوں ۔ مگر یہ بھی یاد رکھو کہ اس وقت خطرہ کے مقام پر کھڑے ہوتے ہوئے بھی جو میں دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ میرے اندر خدائی کا کوئی مادہ پایا جاتا ہے بلکہ میں انسان ہی ہوں اور عبدالمطلب کا پوتا ہوں۔ پھر آپ نے حضرت عباس کو جن کی آواز بہت بلند تھی آگے بلایا اور فرمایا ہے وہ صحابہ ہوں عباس ! بلند آواز سے پکار کر کہو کہ اے وہ صحابہ جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورۃ بقرۃ کے زمانہ سے مسلمان ہو! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ حضرت عباس نے نہایت ہی بلند آواز سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنایا تو اُس وقت صحابہؓ کی جو حالت ہوئی اُس کا اندازہ صرف اُنہی کی زبان سے حالات سن کر لگایا جا سکتا ہے۔ وہی صحابی جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم اونٹوں اور گھوڑوں کو واپس کرنے کی کشمکش میں تھے کہ عباس کی آواز ہمارے کانوں میں پڑی ۔ اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم اس دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہیں اور اُس کے فرشتے ہم کو حساب دینے کے لئے بلا رہے ہیں ۔ تب ہم میں سے بعض نے اپنی تلواریں اور اپنی ڈھالیں اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور اونٹوں سے کود گئے اور ڈرے ہوئے اونٹوں کو انہوں نے خالی چھوڑ دیا کہ وہ جدھر چاہیں چلے جائیں اور بعض نے اپنی تلواروں سے اپنے اونٹوں کی گردنیں کاٹ دیں اور خود پیدل دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے