سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 220

سيرة النبي ع صلى الله 205 جلد 7 کہ اب ہم اچھی طرح حملہ کر سکتے ہیں تو اگلی کھڑی فوج نے سامنے سے حملہ کر دیا اور پہلوؤں سے تیر اندازوں نے بے تحاشا تیر برسانے شروع کر دیئے ۔ مکہ کے لوگ جو یہ سمجھ کر ساتھ شامل ہوئے تھے کہ آج ہم کو بھی بہادری دکھانے کا موقع ملے گا اس دوطرفہ حملہ کی برداشت نہ کر سکے اور واپس مکہ کی طرف بھاگے۔ مسلمان گو اس قسم کی تکالیف اٹھانے کے عادی تھے مگر جب دو ہزار گھوڑے اور اونٹ اُن کی صفوں میں سے بے تحاشا بھاگتے ہوئے نکلے تو ان کے گھوڑے اور اونٹ بھی ڈر گئے اور سارے کا سارا لشکر بے تحاشا پیچھے کی طرف دوڑ پڑا۔ تین طرف کے حملہ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ 12 صحابی کھڑے رہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ سارے صحابہ بھاگ گئے تھے بلکہ 100 کے قریب اور آدمی بھی میدان میں کھڑے رہے تھے مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فاصلہ پر تھے۔ آپ کے گرد صرف ایک درجن کے قریب آدمی رہ گئے ۔ ایک صحابی کہتے ہیں میں اور میرے ساتھی بے تحاشا زور لگاتے تھے کہ کسی طرح ہماری سواریاں میدانِ جنگ کی طرف آئیں لیکن دو ہزار اونٹوں کے دوڑنے کی وجہ سے ہماری سواریاں ایسی ڈر گئی تھیں کہ ہمارے ہاتھ باگیں موڑ تے موڑتے زخمی ہو گئے مگر اونٹ اور گھوڑے واپس لوٹنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ بعض دفعہ ہم باگیں اس زور سے کھینچتے تھے کہ مرکب کا سر اُس کی پیٹھ کو لگ جاتا تھا۔ مگر پھر جب ایڑی دے کر ہم اُس کو پیچھے کی طرف موڑتے تو وہ بجائے پیچھے لوٹنے کے جانور اور بھی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بھاگ پڑتا۔ ہمارا دل دھڑک رہا تھا کہ پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہو گا مگر ہم بالکل بے بس تھے ۔ ادھر تو صحابہ کی یہ حالت تھی اور اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف چند آدمیوں کے ساتھ میدان جنگ میں کھڑے تھے۔ دائیں اور بائیں اور سامنے تینوں طرف سے تیر پڑرہے تھے اور پیچھے کی طرف صرف ایک تنگ راستہ تھا جس میں سے ایک وقت میں سے ایک وقت میں چند آدمی ہی گزر سکتے تھے مگر پھر بھی سوائے اُس راستہ کے اور کوئی نجات کی راہ نہیں