سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 219
صلى الله سيرة النبي علي 204 جلد 7 علاوہ تین ہزار روپیہ قرض دیا۔ اسی طرح آپ نے اپنے چا زاد بھائی نوفل بن حارث سے تین ہزار نیزہ عاریہ لیا۔ جب یہ لشکر ہوازن کی طرف چلا تو مکہ والوں نے خواہش کی کہ گو ہم مسلمان نہیں ہیں لیکن اب چونکہ ہم اسلامی حکومت میں شامل ہو چکے ہیں ہم کو بھی لڑائی میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے چنانچہ دو ہزار آدمی مکہ سے آپ کے ساتھ روانہ ہوا۔ راستہ میں عرب کی ایک مشہور زیارت گاہ پڑتی تھی جس کو ذات انواط کہتے تھے۔ یہ ایک پرانا بیری کا درخت تھا جس کو عرب کے لوگ متبرک سمجھتے تھے اور جب عرب کے بہادر لوگ کوئی ہتھیار خریدتے تو پہلے ذات انواط میں جا کر لڑکاتے تھے تا کہ اس کو برکت حاصل ہو جائے۔ جب صحابہؓ اس کے پاس سے گزرے تو بعض نے کہا يَا رَسُولَ الله! ہمارے لئے بھی آپ ایک ذات انواط مقرر فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بڑا ہے یہ تو وہی موسی کی قوم والی بات ہوئی کہ جب وہ کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور کنعان کے قبائل کو انہوں نے بت پوجتے دیکھا تو موسیٰ سے مخاطب ہو کر کہا قَالُوا يَمُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلهَا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ - 192۔ اے موسی ! جس طرح ان کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی کوئی معبود تجویز کر دیجئے ۔ فرمایا یہ تو جہالت کی باتیں ہیں میں ڈرتا ہوں کہ اس قسم کے وہموں کی وجہ سے کہیں تم میں سے بھی ایک گروہ ایسی ہی حرکتیں نہ کرنے لگ جائے 193۔ ط ہوازن اور ان کے مددگار قبائل نے ایک کمین گاہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بنا چھوڑی تھی جیسے آج کل لڑائی کے میدان میں مخفی خندقیں ہوتی ہیں جب اسلامی لشکر حنین مقام پر پہنچا تو وہ ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی منڈیریں بنا کر ان کے پیچھے بیٹھ گئے اور بیچ میں سے ایک تنگ راستہ مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیا۔ اکثر سپاہی تو ان ٹیلوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئے اور کچھ سپاہی اونٹوں وغیرہ کے سامنے صف بند ہو کر کھڑے ہو گئے ۔ مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ لشکر وہی ہے جو سامنے کھڑا ہے آگے بڑھ کر اُس پر حملہ کر دیا۔ جب مسلمان کافی آگے بڑھ چکے اور کمین گاہ کے سپاہیوں نے سمجھا