سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 218

سيرة ا له صلى الله ة ة ابي عليه 203 جلد 7 ہو جائیں ۔ انہی قبائل میں بنو سعد بن بکر بھی تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائی حلیمہ اسی قبیلہ میں سے تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن کی عمر اسی قبیلہ میں گزاری تھی ۔ یہ لوگ جمع ہو کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھ اپنے مال اور اپنی بیویوں اور اپنی اولادوں کو بھی لے لیا۔ جب ان کے سرداروں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا اس لئے تا سپاہیوں کو یہ خیال رہے کہ اگر ہم بھاگے تو ہماری بیویاں اور ہماری اولادیں قید ہو جائیں گی اور ہمارے مال لوٹے جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے پختہ ارادہ کے ساتھ مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے نکلے تھے۔ آخر یہ لشکر وادی اوطاس میں آکر اترا جو جنگ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی وادی تھی کیونکہ اس میں پناہ کی جگہیں بھی تھیں اور جانوروں کے لئے چارہ اور انسانوں کے لئے پانی بھی موجود تھا اور گھوڑے دوڑانے کے لئے زمین بھی بہت ہی مناسب تھی ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے عبداللہ بن ابی حدرڈ نامی ایک صحابی کو حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے بھیجا۔ عبداللہ نے آکر اطلاع دی کہ واقعہ میں ان کا لشکر جمع ہے اور وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہیں۔ چونکہ یہ قوم بڑی تیرانداز تھی اور جس جگہ پر انہوں نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ مقام ایسا تھا کہ صرف ایک محدود جگہ پر لڑائی کی جاسکتی تھی اور اس جگہ پر بھی حملہ آور بڑی صفائی کے ساتھ تیروں کا نشانہ بنتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے سردار صفوان سے جو بہت بڑے مالدار اور تاجر تھے اس جنگ کے لئے ہتھیار اور کچھ روپیہ مانگا ۔ صفوان نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا اپنی حکومت کے زور پر آپ میرا مال چھیننا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں ہم چھیننا نہیں چاہتے بلکہ تم سے عاریہ مانگتے ہیں اور اس کی ضمانت دینے کو تیار ہیں ۔ اس پر اُس نے کہا تب کوئی حرج نہیں آپ مجھ سے یہ چیزیں لے لیں اور اُس نے سو زرہیں اور ان کے ساتھ مناسب ہتھیار عاریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے اور اس کے