سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 217
سيرة النبي علي الله 202 جلد 7 جا پڑی تھیں جس کی وجہ سے اُن کا حمل ضائع ہو گیا اور کچھ عرصہ کے بعد وہ فوت ہو گئیں ۔ علاوہ اور جرائم کے یہ جرم بھی اس کو قتل کا مستحق بناتا تھا۔ یہ شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا اے اللہ کے نبی! میں آپ سے بھاگ کر ایران کی طرف چلا گیا تھا پھر میں نے خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ذریعہ سے ہمارے شرک کے خیالات کو دور کیا ہے اور ہمیں روحانی ہلاکت سے بچایا ہے میں غیر لوگوں میں جانے کی بجائے کیوں نہ اس کے پاس جاؤں اور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اُس سے معافی مانگوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہبار ! جب خدا نے تمہارے دل میں اسلام کی محبت پیدا کر دی ہے تو میں تمہارے گناہوں کو کیوں نہ معاف کروں۔ جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا اسلام نے تمہارے سب پہلے قصور مٹا دیئے ہیں 191 ۔ اس جگہ اتنی گنجائش نہیں کہ میں اس مضمون کو لمبا کروں ورنہ ان خطرناک مجرموں میں سے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی معذرت پر معاف فرما دیا اکثر کے واقعات ایسے دردناک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کو اتنا ظاہر کرنے والے ہیں کہ ایک سنگدل انسان بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ غزوه چنین چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں داخلہ اچانک ہوا اس لئے مکہ سے ذرا فاصلے پر جو قبائل رہتے تھے خصوصاً وہ جو جنوب کی طرف رہتے تھے انہیں مکہ پر حملہ کی خبر اُسی وقت ہوئی جب آپ مکہ میں داخل ہو چکے تھے ۔ اس خبر کے سنتے ہی انہوں نے اپنی فوجیں جمع کرنی شروع کر دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کی تیاری کرنے لگے ۔ ہوازن اور ثقیف دو عرب قبیلے اپنے آپ کو خاص طور پر بہادر خیال کرتے تھے انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کر کے اپنے لئے ایک سردار چن لیا اور مالک بن عوف نامی ایک شخص کو اپنا رئیس مقرر کر لیا۔ ر اس کے بعد انہوں نے اردگرد کے قبائل کو دعوت دی کہ وہ بھی ان کے ساتھ آ کر شامل