سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 216

صلى الله سيرة النبي علي 201 جلد 7 اور اُس کے رسول ہو اور پھر شرم سے اپنا سر جھکا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حیا کی حالت کو دیکھ کر کر اس کے دل دل کی کی تسلی کے لئے کے فرمایا لئے فرمایا عکرمہ ! ہم نے نے تمہیں صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس سے زائد یہ بات بھی ہے کہ اگر آج کوئی ایسی چیز مجھ سے مانگو جس کے دینے کی مجھ میں طاقت ہو تو میں وہ بھی تمہیں دے دوں گا ۔ عکرمہ نے کہا يَا رَسُولَ الله! اور اس سے زیادہ میری خواہش کیا ہو سکتی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ میں نے جو آپ کی دشمنیاں کی ہیں وہ مجھے معاف کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرمایا اے میرے اللہ ! وہ تمام دشمنیاں جو عکرمہ نے مجھ سے کی ہیں اسے معاف کر دے اور وہ تمام گالیاں جو اس کے منہ سے نکلی ہیں وہ اسے بخش دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنی چادر اتار کر اس کے اوپر ڈال دی اور فرمایا جو اللہ پر ایمان لاتے ہوئے ہمارے پاس آتا ہے ہمارا گھر اُس کا گھر ہے اور ہماری جگہ اُس کی جگہ ہے 189۔ عکرمہ کے ایمان لانے سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو سالہا سال پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ سے بیان فرمائی تھی ۔ آپ نے فرمایا تھا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں جنت میں ہوں وہاں میں نے انگور کا ایک خوشہ دیکھا اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کے لئے ہے؟ تو کسی جواب دینے والے نے کہا ابو جہل کے لئے ۔ یہ بات مجھے عجیب معلوم ہوئی اور میں نے کہا جنت میں تو سوائے مومن کے اور کوئی داخل نہیں ہوتا پھر جنت میں ابو جہل کے لئے انگور کیسے مہیا کئے گئے ہیں؟ جب عکرمہ ایمان لایا تو آپ نے فرمایا وہ خوشہ عکرمہ کا تھا خدا نے بیٹے کی جگہ باپ کا نام ظاہر کیا 190 جیسا کہ خوابوں میں اکثر ہو جایا کرتا ہے۔ وہ لوگ جن کے قتل کا حکم دیا گیا تھا اُن میں وہ شخص بھی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب کی ہلاکت کا موجب ہوا تھا۔ اس شخص کا نام ہبار تھا۔ اس نے حضرت زینب کے اونٹ کا تنگ کاٹ دیا تھا اور حضرت زینب اونٹ سے نیچے