سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 215

سيرة ابي عليه 200 جلد 7 بڑھ کر کوئی قیمتی چیز اس دنیا میں پیدا نہیں ہوئی خدا نے اُن کو دیا تھا مگر اُنہوں نے اُس کو اپنے گھروں سے نکال کر پھینک دیا اور اب کے وہ خدا کے فضل اور اُس کی مدد کے ساتھ دوبارہ مکہ میں آیا تھا وہ اپنے وفائے عہد کی وجہ سے اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ واپس جا رہا ہے ۔ جن لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ ان کے بعض ظالمانہ قتلوں اور ظلموں کی وجہ سے ان کو قتل کیا جائے ان میں سے اکثر کو مسلمانوں کی سفار کی سفارش پر آپ نے چھوڑ دیا۔ انہی لوگوں میں سے ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بھی تھا۔ عکرمہ کی بیوی دل سے مسلمان تھی اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا يَا رَسُولَ الله! عکرمہ کو بھی آپ معاف فرما دیں ۔ آپ نے فرمایا ہاں ہاں ! ہم اُسے معاف کرتے ہیں ۔ عکرمہ بھاگ کر یمن کی طرف جارہے تھے کہ بیوی اپنے خاوند کی محبت میں پیچھے پیچھے اُس کی تلاش میں گئی ۔ جب وہ ینبوع کے بندر پر کشتی میں بیٹھے ہوئے عرب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنے پر تیار تھے کہ پراگندہ سر اور پریشان حال بیوی گھبرائی ہوئی پہنچی اور کہا اے میرے چچا کے بیٹے ! ( عرب عورتیں اپنے خاوندوں کو چا کا بیٹا کہا کرتی تھیں) اتنے شریف اور اتنے رحم دل انسان کو چھوڑ کر تم کہاں جا رہے ہو؟ عکرمہ نے حیرت سے اپنی بیوی سے پوچھا کیا میری ان ساری دشمنیوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معاف کر دیں گے؟ عکرمہ کی بیوی نے کہا ہاں ہاں ! میں نے اُن سے عہد لے لیا ہے اور انہوں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا یا رَسُولَ الله! میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے میرے جیسے انسان کو بھی معاف کر دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے ہم نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ عکرمہ نے کہا جو شخص اتنے شدید دشمنوں کو معاف کر سکتا ہے وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم اس کے بندے