سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 214

له صلى الله سيرة ابي عليه 199 جلد 7 تھے اور اپنی قوم کے ساتھ بخشش اور رحمت کا معاملہ کر رہے تھے تو انصار کے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے تھے اور وہ ایک دوسرے سے اشاروں میں کہہ رہے تھے شاید آج ہم خدا کے رسول کو اپنے سے جدا کر رہے ہیں کیونکہ ان کا شہر خدا تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح کر دیا ہے اور ان کا قبیلہ ان پر ایمان لے آیا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ سے انصار کے ان شبہات کی خبر دے دی ۔ آپ نے سر اٹھا یا انصار کی طرف دیکھا اور فرمایا اے انصار ! تم سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت ستاتی ہوگی اور اپنی قوم کی محبت اس کے دل میں گر گریاں لیتی ہوگی ۔ انصار نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! یہ درست ہے ہمارے دل میں ایسا خیال گزرا تھا۔ آپ نے فرمایا تمہیں پتہ ہے میرا نام کیا ہے؟ مطلب یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول کہلاتا ہوں پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم لوگوں کو جنہوں نے دین اسلام کی کمزوری کے وقت میں اپنی جانیں قربان کیں چھوڑ کر کسی اور جگہ چلا جاؤں ۔ پھر فرمایا اے انصار ! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میں اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں ۔ میں نے خدا کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا تھا اور اس کے بعد اب میں اپنے وطن میں واپس نہیں آسکتا ۔ میری زندگی تمہاری زندگی سے ہے اور میری موت تمہاری موت سے وابستہ ہے۔ مدینہ کے لوگ آپ کی یہ باتیں سن کر اور آپ کی محبت اور آپ کی وفا کو دیکھ کر روتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا يَا رَسُولَ الله ! خدا کی قسم ! ہم نے خدا اور اس کے رسول پر بدظنی کی 188 ۔ بات یہ ہے کہ ہمارے دل اس خیال کو برداشت نہیں کر سکے کہ خدا کا رسول ہمیں اور ہمارے شہر کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے ۔ آپ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تم لوگوں کو بری سمجھتے ہیں اور تمہارے اخلاص کی تصدیق کرتے ہیں ۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے لوگوں میں یہ پیار اور محبت کی باتیں ہو رہی ہوں گی اگر مکہ کے لوگوں کی آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے ہوں گے تو ان کے دل یقیناً آنسو بہا رہے ہوں گے کہ وہ قیمتی ہیرا جس سے