سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 213

سيرة النبي علي صلى الله 198 جلد 7 مسلمانوں کے دل اُس دن ایمان سے اتنے پُر ہو رہے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر ان کا یقین اس طرح بڑھ رہا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زمزم کے چشمہ سے ( جو اسمعیل ابن ابراہیم کے لئے خدا تعالیٰ نے بطور نشان پھاڑا تھا) پانی پینے کے لئے منگوایا اور اُس میں سے کچھ پانی پی کے باقی پانی سے آپ نے وضو فرمایا تو آپ کے جسم میں سے کوئی قطرہ زمین پر نہیں گر سکتا تھا۔ مسلمان فوراً اُس کو اچک لے جاتے اور تبرک کے طور پر اپنے جسم کے اوپر مل لیتے تھے اور مشرک کہہ رہے تھے ہم نے کوئی بادشاہ دنیا میں ایسا نہیں دیکھا جس کے ساتھ اس کے لوگوں کو اتنی محبت ہو 186 ۔ جب آپ ان باتوں سے فارغ ہوئے اور مکہ والے آپ کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو آپ نے فرمایا اے مکہ کے لوگو! تم نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کے نشانات کس طرح لفظ بلفظ پورے ہوئے ہیں اب بتاؤ کہ تمہارے ان ظلموں اور ان شرارتوں کا کیا بدلہ دیا جائے جو تم نے خدائے واحد کی عبادت کرنے والے غریب بندوں پر کئے تھے؟ مکہ کے لوگوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ یہ خدا کی قدرت قدرت تھی کہ مکہ والوں کے منہ سے وہی الفاظ نکلے جن کی پیشگوئی خدا تعالیٰ نے سورۃ یوسف میں پہلے سے کی ہوئی تھی اور فتح مکہ سے دس سال پہلے بتا دیا تھا کہ تو مکہ والوں سے ویسا ہی سلوک کرے گا جیسا یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ پس جب مکہ والوں کے منہ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوسف کے مثیل تھے اور یوسف کی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بھائیوں پر فتح دی تھی تو آپ نے بھی اعلان فرما دیا کہ تَاللهِ لا تَشْرِیبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۔ خدا کی قسم ! آج تمہیں کسی قسم کا عذاب نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی سرزنش کی جائے گی 187۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیارت کعبہ کی متعلقہ عبادتوں میں مصروف