سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 212

سيرة النبي علي صلى الله 197 جلد 7 مسلمانوں اور کفار کے دلوں میں جو جذبات پیدا ہوئے ہوں گے وہ لفظوں میں ادا نہیں ہو سکتے ۔ غرض اُس دن ابراہیم کا مقام پھر خدائے واحد کی عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا اور بت ہمیشہ کے لئے توڑے گئے ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبل نامی بت کے اوپر اپنی چھڑی ماری اور وہ اپنے مقام سے گر کر ٹوٹ گیا تو حضرت زبیر نے ابوسفیان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا ابوسفیان ! یاد ہے اُحد کے دن جب مسلمان زخموں سے چور ایک طرف کھڑے ہوئے تھے تم نے اپنے غرور میں یہ اعلان کیا تھا اُعْلُ هُبَل ، اُعْلُ هُبَل ، هُبَل کی شان بلند ہو، هُبَل ر ہو، هُبَل کی شان بلند ہو۔ اور یہ کہ ٹل نے ہی تم کو اُحد کے دن مسلمانوں پر فتح دی تھی ۔ آج دیکھتے ہو وہ سامنے ھبل کے ٹکڑے پڑے ہیں ۔ ابوسفیان نے کہا زبیر! یہ باتیں جانے بھی دو۔ آج ہم کو اچھی طرح نظر آ رہا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے سوا کوئی اور خدا بھی ہوتا تو آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس طرح کبھی نہ ہوتا 184 ۔ پھر آپ نے خانہ کعبہ کے اندر جو تصویر میں حضرت ابراہیم وغیرہ کی بنی ہوئی تھیں ان کے مٹانے کا حکم دیا اور خانہ کعبہ میں خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے شکریہ میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر باہر تشریف لائے اور باہر آ کر بھی دو رکعت نماز پڑھی ۔ خانہ کعبہ کی تصویروں کو مٹانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو مقرر فرمایا تھا انہوں نے اس خیال سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو ہم بھی نبی مانتے ہیں حضرت ابراہیم کی تصویر کو نہ مٹایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اُس تصویر کو قائم دیکھا تو فرمایا عمر ! تم نے یہ کیا کیا ؟ کیا خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ 185 ۔ یعنی ابراہیم نہ یہودی تھانہ نصرانی بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا کامل فرمانبردار اور خدا تعالیٰ کی ساری صداقتوں کو ماننے والا اور خدا کا موحد بندہ تھا۔ چنانچہ آپ کے حکم سے اس تصویر کو بھی مٹا دیا گیا۔ خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ کر