سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 211

ة سيرة النبي علي صلى الله 196 جلد 7 طرف دیکھ کر کہا تھا اے مکہ ! تو مجھے دنیا کی ساری بستیوں سے زیادہ پیارا ہے لیکن تیرے باشندے مجھے اس جگہ پر رہنے نہیں دیتے 181 ۔ آپ مکہ میں داخل ہوتے وقت حضرت ابو بکر آپ کی اونٹنی کی رکاب پکڑے ہوئے ابوبکر پ کے ساتھ باتیں بھی کرتے جا رہے تھے اور سورۃ فتح جس میں فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی وہ بھی پڑھتے جاتے تھے۔ آپ سیدھے خانہ کعبہ میں آئے اور اونٹنی پر چڑھے چڑھے سات دفعہ خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ اُس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک سوئی تھی ۔ آپ خانہ کعبہ کے گرد جس گھر کو ابراہیم اور اس کے بیٹے اسمعیل نے خدائے واحد کی پرستش کے لئے بنایا تھا اور جس کو بعد میں اُن کی گمراہ اولاد نے بتوں کا مخزن بنا کر رکھ دیا تھا گھومے اور وہ تین سو ساٹھ بت جو اس جگہ پر رکھے ہوئے تھے اُن میں سے ایک ایک بت پر آپ سوٹی مارتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - 182 یہ وہ آیت ہے جو ہجرت سے پہلے سورۃ بنی اسرائیل میں آپ پر نازل ہوئی تھی اور جس میں ہجرت اور پھر فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی۔ یورپین مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ہجرت سے پہلے کی سورۃ ہے اس سورۃ میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ وَقُلْ رَّبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ اَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ لِّي مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَصِيرًا - وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا 183 ۔ یعنی تو کہہ دے میرے رب ! مجھے اس شہر یعنی مکہ میں نیک طور پر داخل كيجيؤ یعنی ہجرت کے بعد فتح اور غلبہ دے کر ۔ اور اس شہر سے خیریت سے ہی نکالیو یعنی ہجرت کے وقت۔ اور خود اپنے پاس سے مجھے غلبہ اور مدد کے سامان بھجوائیو۔ اور یہ بھی کہو کہ حق آگیا ہے اور باطل یعنی شرک شکست کھا کے بھاگ گیا ہے اور باطل یعنی شرک کے لئے شکست کھا کر بھاگنا تو ہمیشہ کے لئے مقدر تھا۔ اس پیشگوئی کے لفظاً لفظاً پورا ہونے اور حضرت ابوبکر کے اس کو تلاوت کرتے وقت