سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 210
لله صلى الله عليه سيرة النبي 195 جلد 7 آپ سے لوگوں نے پوچھا يَا رَسُولَ الله! کیا آپ اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ( یہ آپ کے چا زاد بھائی تھے ) ہمارے لئے کوئی گھر چھوڑا بھی ہے؟ یعنی میری ہجرت کے بعد میرے رشتہ داروں نے میری ساری جائیداد بیچ باچ کر کھالی ہے اب مکہ میں میرے لئے کوئی ٹھکانا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا ہم خیف بنی کنانہ میں ٹھہریں گے ۔ یہ مکہ کا ایک میدان تھا جہاں قریش اور کنا نہ قبیلہ نے مل کر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر ہمارے حوالہ نہ کر دیں اور ان کا ساتھ نہ چھوڑ دیں ہم ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ خرید و فروخت کریں گے۔ اس عہد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چچا ابوطالب اور آپ کی جماعت کے تمام افراد وادی ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے تھے اور تین سال کی شدید تکلیفوں کے بعد خدا تعالیٰ نے انہیں نجات دلائی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب کیسا لطیف تھا ۔ مکہ والوں نے اسی مقام پر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سپرد نہ کر دیئے جائیں ہم آپ کے قبیلہ سے صلح نہیں کریں گے ۔ آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُسی میدان میں جا کر اترے اور گویا مکہ والوں سے یہ کہا کہ جہاں تم چاہتے تھے میں وہاں آگیا ہوں مگر بتا ہوں مگر بتاؤ تو سہی کیا تم میں طاقت ہے کہ آج مجھے اپنے ظلموں کا نشانہ بنا سکو !! وہی مقام جہاں تم مجھے ذلیل اور مقہور شکل میں دیکھنا چاہتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ میری قوم مجھے پکڑ کر اس جگہ تمہارے سپرد کر دے وہاں میں ایسی شکل میں آیا ہوں کہ میری قوم ہی نہیں سارا عرب بھی میرے ساتھ ہے اور میری قوم نے مجھے تمہارے سپر دنہیں کیا بلکہ میری قوم نے تمہیں میرے سپر دکر دیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ دن بھی پیر کا دن تھا۔ وہی دن جس دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور سے نکل کر صرف ابوبکرؓ کی معیت میں مدینہ کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے گئے تھے۔ وہی دن جس میں آپ نے حسرت کے ساتھ ثور کی پہاڑی پر سے مکہ کی