سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 231

صلى الله سيرة النبي علي 216 جلد 7 چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وحی سے حکم دیا کہ قبا کی وہ مسجد جو منافقوں نے اس لئے بنائی تھی کہ نماز کے بہانہ سے وہاں جمع ہوا کریں گے اور لئے کہ منافقانہ مشورے کیا کریں گے وہ گرادی جائے اور اُن کو مجبور کیا جائے کہ وہ مسلمانوں کی دوسری مسجدوں میں نماز پڑھا کریں مگر باوجود اتنی بڑی شرارت کے ان کو کوئی بدنی یا مالی سزا نہ دی گئی ۔ تبوک سے واپسی کے بعد طائف کے لوگوں نے بھی آکر اطاعت قبول کر لی اور اس کے بعد عرب کے متفرق قبائل نے باری باری آکر اسلامی حکومت میں داخلہ کی اجازت چاہی اور تھوڑے ہی عرصہ میں سارے عرب پر اسلامی جھنڈا لہرانے لگ گیا۔ صلى الله حجۃ الوداع اور آنحضرت ﷺ کا ایک خطبہ نویں سال ہجری میں آپ نے مکہ کا حج فرمایا اور اُس دن آپ پر قرآن شریف کی یہ مشہور آیت نازل ہوئی کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا 203 یعنی آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور جتنے روحانی انعامات خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر نازل ہو سکتے ہیں وہ سب میں نے تمہاری امت کو بخش دیئے ہیں اور اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ تمہارا دین خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مبنی ہو۔ اس آیت کو آپؐ نے مزدلفہ کے میدان میں جبکہ حج کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں سب لوگوں کے سامنے بآواز بلند پڑھ کر سنایا۔ مزدلفہ سے لوٹنے پر حج کے قواعد کے مطابق آپ منی میں ٹھہرے اور گیارھویں ذوالحجہ کو آپ نے تمام مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس کے الفاظ یہ تھے :۔ ”اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد کبھی بھی میں تم لوگوں کے درمیان اس میدان میں کھڑے ہو کر کوئی تقریر کروں گا۔ وو 66 حیا سہواً درج ہوا ہے۔ درست دسویں سال ہجری ہے ۔ ( مرتب )