سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 207

سيرة النبي علي صلى الله 192 جلد 7 پڑتا تھا۔ ابوسفیان نے ان کو دیکھا تو اس کا دل دہل گیا۔ اس نے پوچھا عباس ! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار و مہاجرین کے لشکر میں جا رہے ہیں۔ ابوسفیان نے جواب دیا اس لشکر کا مقابلہ کرنے کی دنیا میں کس کو طاقت ہے۔ پھر وہ حضرت عباس سے مخاطب ہوا اور کہا عباس ! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔ عباس نے کہا اب بھی تیرے دل کی آنکھیں نہیں کھلیں یہ بادشاہت نہیں یہ تو نبوت ہے۔ ابوسفیان نے کہا ہاں ہاں اچھا پھر نبوت ہی سہی 176 ۔ جس وقت یہ لشکر ابوسفیان کے سامنے سے گزر رہا تھا انصار کے کمانڈ رسعد بن عبادہ نے ابو سفیان کو دیکھ کر کہا آج خدا نے ہمارے لئے مکہ میں داخل ہونا تلوار کے زور سے حلال کر دیا ہے۔ آج قریشی قوم کو ذلیل کر دیا جائے گا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو اس نے بلند آواز سے کہا يَا رَسُولَ اللہ! کیا آپ نے اپنی قوم کے قتل کی اجازت دے دی ہے؟ ابھی ابھی انصار کے سردار سعد اور ان کے ساتھی ایسا ویسا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے آپ سے یہ کہا ہے آج لڑائی ہو گی اور مکہ کی حرمت آج ہم کو لڑائی سے باز نہیں رکھ سکے گی اور قریش کو ہم ذلیل کر کے چھوڑیں گے ۔ يَا رَسُولَ الله ! آپ تو دنیا میں سب سے زیادہ نیک ، سب سے زیادہ رحیم اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں ۔ کیا آج اپنی قوم کے ظلموں کو بھول نہ جائیں گے؟ ابوسفیان کی یہ شکایت سن کر وہ مہاجرین جن کو مکہ کی گلیوں میں پیٹا اور مارا جاتا تھا ، جن کو گھروں اور جائیدادوں سے بے دخل کیا جاتا تھا ان کے دلوں میں بھی مکہ کے لوگوں کی نسبت رحم پیدا ہو گیا تھا اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! انصار نے مکہ والوں کے مظالم کی جو کہانیاں سنی ہوئی ہیں آج ان کی وجہ سے ہم نہیں جانتے کہ وہ قریش کے ساتھ کیا معاملہ کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوسفیان ! سعد نے غلط ! سعد نے غلط کہا ہے ۔ آج رحم کا دن ہے ۔ آج ا ج اللہ تعالیٰ قریش اور خانہ کعبہ