سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 206

له صلى الله سيرة ابي عليه 191 جلد 7 تجویز کیا ہے اس سے زیادہ شاندار اور اس سے زیادہ حسین انتقام میرے لئے اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ جب لشکر مکہ کی طرف بڑھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو حکم دیا کہ کسی سڑک کے کونے پر ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو لے کر کھڑے ہو جاؤ تا کہ وہ اسلامی لشکر اور اس کی فدائیت کو دیکھ سکیں ۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا اور ایک کے بعد ایک کر کے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے سامنے عرب کے وہ قبائل گزرنے شروع ہوئے جن کی امداد پر مکہ بھروسہ کر رہا تھا مگر آج وہ کفر کا جھنڈا نہیں لہرا رہے تھے آج وہ اسلام کا جھنڈا لہرا رہے تھے اور ان کی زبان پر خدائے قادر کی توحید کا اعلان تھا۔ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان لینے کیلئے آگے نہیں بڑھ رہے تھے جیسا کہ مکہ والے امید کرتے تھے بلکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لئے تیار تھے اور ان کی انتہائی خواہش یہی تھی کہ خدائے واحد کی توحید اور اس کی تبلیغ کو دنیا میں قائم کر دیں ۔ لشکر کے بعد لشکر گزار رہا تھا کہ اتنے میں اشجع قبیلے کا لشکر گزرا۔ اسلام کی محبت اور اس کے لئے قربان ہونے کا جوش ان کے چہروں سے عیاں اور ان کے نعروں عباس! یہ کون ہیں؟ عباس نے کہا یہ اشجع قبیلہ ہے۔ ابوسفیان نے حیرت سے عباس کا منہ دیکھا اور کہا سارے عرب میں ان سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ عباس نے کہا یہ خدا کا فضل ہے جب اُس نے چاہا ان کے دلوں میں اسلام کی محبت داخل ہو گئی ۔ سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین وانصار کا لشکر لے کر گزرے۔ یہ دو ہزار کی تعداد میں تھے اور سر سے پاؤں تک زرہ بکتروں میں چھپے ہوئے تھے۔ حضرت عمر اُن کی صفوں کو درست کرتے چلے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے قدموں کو سنبھال کر چلو تا کہ صفوں کا فاصلہ ٹھیک رہے۔ ان پرانے فدا کارانِ اسلام کا جوش اور ان کا عزم اور ان کا ولولہ ان کے چہروں سے پھوٹ پھوٹ تھا۔ ابوسفیان نے کہا سے ظاہر تھا۔ اب