سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 205

صلى الله سيرة النبي علي 190 جلد 7 بہت اچھا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں گھس جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا 174 ۔ جو مسجد کعبہ میں گھس جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو اپنے ہتھیار پھینک دے اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو اپنا دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو حکیم بن حزام کے گھر میں گھس جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا۔ اس کے بعد ابی رویحہ جن کو آپ نے بلال حبشی غلام کا بھائی بنایا ہوا تھا اُن کے متعلق آپ پ نے فرمایا۔ ہم اس وقت ابی رویحہ کو اپنا جھنڈا دیتے ہیں جو شخص ابی رویحہ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا ہم اُس کو بھی کچھ نہ کہیں گے ۔ اور بلال کو کہا تم ساتھ ساتھ یہ اعلان کرتے جاؤ کہ جو شخص ابی رویحہ کے جھنڈے کے نیچے آجائے گا اُس کو امن دیا جائے گا 175۔ اس حکم میں کیا ہی لطیف حکمت تھی ۔ مکہ کے لوگ بلال کے پیروں میں رسی ڈال کر اُس کو گلیوں میں کھینچا کرتے تھے، مکہ کی گلیاں، مکہ کے میدان بلال کے لئے امن کی جگہ نہیں تھے بلکہ عذاب اور تذلیل اور تضحیک کی جگہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ بلال کا دل آج انتظام کی طرف بار بار مائل ہوتا ہو گا اس وفادار ساتھی کا انتقام لینا بھی نہایت ضروری ہے مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا انتقام اسلام کی شان کے مطابق ہو۔ پس آپ نے بلال کا انتظام اس طرح نہ لیا کہ تلوار کے ساتھ اُس کے دشمنوں کی گردنیں کاٹ دی جائیں بلکہ اس کے بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑا جھنڈا دے کر کھڑا کر دیا اور بلال کو اس غرض کے لئے مقرر کر دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ جو کوئی میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے آکر کھڑا ہو گا اُسے امن دیا جائے گا۔ کیسا ناندار یہ انتظام تھا، کیسا حسین یہ انتظام تھا۔ جب بلال بلند آواز سے یہ اعلان کرتا ہوگا کہ اے مکہ والو! آؤ میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو جاؤ تمہیں امن دیا جائے گا تو اُس کا دل خود ہی انتقام کے جذبات سے خالی ہوتا جاتا ہوگا اور اُس نے محسوس کر لیا ہوگا کہ جو انتقام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے