سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 204
صلى الله سيرة النبي علي 189 جلد 7 حقیقت روشن ہو جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ آپ نہایت ہی حلیم، نہایت ہی شریف اور نہایت ہی صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں ۔ میں اب یہ بات تو سمجھ چکا ہوں کہ اگر خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو کچھ تو ہماری مدد کرتا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھ لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس بارہ میں ابھی میرے دل میں کچھ شبہات ہیں ۔ مگر ابوسفیان کے تردد کے باوجود اُس کے دونوں ساتھی جو اُس کے ساتھ ہی مکہ سے باہر مسلمانوں کے لشکر کی خبر لینے کے لئے آئے تھے اور جن میں سے ایک حکیم بن حزام تھے وہ مسلمان ہو گئے ۔ اس کے بعد ابوسفیان بھی اسلام لے آیا مگر اُس کا دل غالباً فتح مکہ کے بعد پوری طرح کھلا ۔ ایمان لانے کے بعد حکیم بن حزام نے کہا يَا رَسُولَ الله ! کیا یہ لشکر آپ اپنی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے اٹھا لائے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے ظلم کیا ، ان لوگوں نے گناہ کیا اور تم لوگوں نے حدیبیہ میں باندھے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور خزاعہ کے خلاف ظالمانہ جنگ کی ۔ اس مقدس مقام پر جنگ کی جس کو خدا نے امن عطا فرمایا ہوا تھا۔ حکیم نے کہا يَا رَسُولَ الله! ٹھیک ہے آپ کی قوم نے بیشک ایسا ہی کیا ہے لیکن آپ کو تو چاہئے تھا کہ بجائے مکہ پر حملہ کرنے کے ہوازن قوم پر حملہ کرتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم بھی ظالم ہے لیکن میں خدا سے امید کرتا ہوں کہ وہ مکہ کی فتح اور اسلام کا غلبہ اور ہوازن کی شکست یہ ساری باتیں ہی میرے ہاتھ پر پوری کرے گا۔ اس کے بعد ابوسفیان نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اگر مکہ کے لوگ تلوار نہ اٹھائیں تو کیا وہ امن میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ہر شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اُسے امن دیا جائے گا ۔ حضرت عباس نے کہا يَا رَسُولَ الله! ابوسفیان فخر پسند آدمی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میری عزت کا بھی کوئی سامان کیا جائے ۔ آپ نے فرمایا