سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 208
سيرة ابي عليه 193 جلد 7 کو عزت بخشنے والا ہے۔ پھر آپ نے ایک آدمی کو سعد کی طرف بھیجوایا اور فرمایا اپنا جھنڈا اپنے بیٹے قیس کو دے دو کہ وہ تمہاری جگہ انصار کے لشکر کا کمانڈ ر ہو گا 177 ۔ اس طرح آپ نے مکہ والوں کا دل بھی رکھ لیا اور انصار کے دلوں کو بھی صدمہ پہنچنے سے محفوظ رکھا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیس پر پورا اعتبار بھی تھا کیونکہ قیس نہایت ہی شریف طبیعت کے نوجوان تھے ۔ ایسے شریف کہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ان کی وفات کے قریب جب بعض لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے اور بعض عیادت کے لئے نہ آئے تو انہوں نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ بعض جو میرے واقف ہیں میری عیادت کے لئے نہیں آئے ۔ ان کے دوستوں نے کہا آپ بڑے مخیر آدمی ہیں آپ ہر ہر شخص کو اُس کی تکلیف کے وقت قرضہ دے دیتے ہیں۔ ا۔ شہر شہر - کے بہت سے لوگ آپ کے مقروض ہیں اور وہ اس لئے آپ کی عیادت کے لئے نہیں آئے کہ شاید آپ کو ضرورت ہو اور آپ اُن سے روپیہ مانگ بیٹھیں ۔ آپ نے فرمایا اوہو! میرے دوستوں کو بلا وجہ تکلیف ہوئی میری طرف سے تمام شہر میں منادی کر دو کہ ہر شخص جس کے اوپر قیس کا قرضہ ہے وہ اُسے معاف ہے۔ اس پر اس قدر لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے کہ ان کے مکان کی سیڑھیاں ٹوٹ گئیں 178 ۔ جب لشکر گزر چکا تو عباس نے ابوسفیان سے کہا اب اپنی سواری دوڑا کر مکہ پہنچو اور اُن لوگوں کو اطلاع دے دو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں اور انہوں نے اس اس شکل میں مکہ کے لوگوں کو امان دی ہے ۔ جب ابوسفیان اپنے دل میں خوش تھا کہ میں نے مکہ کے لوگوں کی نجات کا رستہ نکال لیا ہے اُس کی بیوی ہند جو ابتدائے اسلام سے مسلمانوں سے بغض اور کینہ رکھنے کی لوگوں کو تعلیم دیتی چلی آئی تھی اور باوجود کافر ہونے کے فی الحقیقت ایک بہادر عورت تھی نے آگے بڑھ کر اپنے خاوند کی ڈاڑھی پکڑ لی اور مکہ والوں کو آوازیں دینی شروع کیں کہ آؤ اس بڑھے احمق کو قتل کر دو کہ بجائے اس کے کہ تم کو یہ نصیحت کرے کہ جاؤ اور اپنی جانوں اور اپنے