سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 201
صلى الله سيرة النبي علي 186 جلد 7 طرح جلدی ہی تمہاری مدد کے لئے اسلامی فوجیں پہنچ جائیں گی ۔ جب مکہ والوں کو اس وفد کا علم ہوا تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے ابوسفیان کو مدینہ روانہ کیا تا کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو حملہ سے باز رکھے۔ ابوسفیان نے مدینہ پہنچ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر زور دینا شروع کیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت میں موجود نہیں تھا اس لئے نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا کیونکہ جواب دینے سے راز ظاہر ہو جاتا تھا۔ ابوسفیان نے مایوسی کی حالت میں گھبرا کر مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا اے لوگو ! میں مکہ والوں کی طرف سے نئے سرے سے آپ لوگوں کے لئے امن کا اعلان کرتا ہوں 171 ۔ یہ بات سن کر مسلمان اُس کی بیوقوفی پر ہنس پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوسفیان ! یہ بات تم یکطرفہ کہہ رہے ہو ہم نے کوئی ایسا معاہدہ تم سے نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دوران میں چاروں طرف مسلمان قبائل کی طرف پیغامبر بھجوا دیئے اور جب یہ اطلاعیں آچکیں کہ مسلمان قبائل تیار ہو چکے ہیں اور مکہ کی طرف کوچ کرتے ہوئے راستہ میں ملتے جائیں گے تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کو مسلح ہونے کا حکم دیا۔ جنوری کی پہلی تاریخ کو یہ لشکر مدینہ سے روانہ ہوا اور راستہ میں چاروں طرف مسلمان قبائل آ آ کر ملنے شروع ہوئے ۔ چند ہی منزلیں طے کرنے کے بعد جب یہ لشکر فاران کے جنگل میں داخل ہوا تو اس کی تعداد سلیمان نبی کی پیشگوئی کے مطابق دس ہزار تک پہنچ چکی تھی ۔ ادھر تو یہ لشکر مکہ کی طرف مارچ کرتا چلا جا رہا تھا اور اُدھر مکہ والے اس خاموشی کی وجہ سے جو فضا پر طاری تھی زیادہ سے زیادہ خوف زدہ ہوتے جاتے تھے ۔ آخر انہوں نے مشورہ کر کے ابوسفیان کو پھر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مکہ سے باہر نکل کر پتہ تو لے کہ مسلمان کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ مکہ سے ایک منزل باہر نکلنے پر ہی ابوسفیان نے رات کے وقت جنگل کو آگ سے روشن پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے دیا تھا کہ تمام خیموں کے آگے