سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 200

سيرة ة النبي علي صلى الله 185 جلد 7 تھا واپس نہیں آنا چاہئے تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بھگوڑے نہیں بار بارلوٹ کر دشمن پر حملہ کرنے والے سپاہی ہیں ۔ اس طرح آپ نے اُن آئندہ جنگوں کر کی پیشگوئی فرمائی جو مسلمانوں کو شام کے ساتھ پیش آنے والی تھیں ۔ فتح مکہ آٹھویں سنہ ہجری کے رمضان کے مہینہ مطابق دسمبر 629ء میں رسوا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری جنگ کے لئے نکلے جس نے عرب میں اسلام کو قائم کر دیا۔ یہ واقعہ یوں ہوا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ عرب قبائل میں سے جو چاہیں مکہ والوں سے مل جائیں اور جو چاہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائیں اور یہ کہ دس سال تک دونوں فریق کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں ہو گی ۔ سوائے اس کے کہ ایک دوسرے پر حملہ کر کے معاہدہ کو توڑ دے۔ اس معاہدہ کے ماتحت عرب کا قبیلہ بنو بکر مکہ والوں کے ساتھ ملا تھا اور خزاعہ قبیلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گیا۔ کفار عرب معاہدہ کی پابندی کا خیال کم ہی رکھتے تھے خصوصاً مسلمانوں کے مقابلہ میں ۔ چنانچہ بنو بکر کو چونکہ خزاعہ قبیلہ کے ساتھ پرانا اختلاف تھا ، صلح حدیبیہ پر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے مکہ والوں سے مشورہ کیا کہ خزاعہ تو معاہدہ کی وجہ سے بالکل مطمئن ہیں اب موقع ہے کہ ہم لوگ ان سے بدلہ لیں۔ چنانچہ مکہ کے قریش اور بنو بکر نے مل کر رات کو بنی خزاعہ پر چھاپا مارا اور ان کے بہت سے آدمی مار دیئے ۔ خزاعہ کو جب معلوم ہوا کہ قریش نے بنو بکر سے مل کر یہ حملہ کیا ہے تو انہوں نے فوراً چالیس آدمی تیز اونٹنیوں پر بٹھا کر مدینہ میں اس بد عہدی کی اطلاع دینے کے لئے روانہ کئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ باہمی معاہدہ کی رو سے اب آپ کا فرض ہے کہ ہمارا بدلہ لیں اور مکہ پر چڑھائی کریں ۔ جب یہ قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا تمہارا دکھ میرا دکھ ہے میں اپنے معاہدہ پر قائم ہوں ۔ یہ بادل جو سامنے برس رہا ہے (اُس وقت بارش ہو رہی تھی ) جس طرح اس میں سے بارش گر رہی ہے اسی