سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 199
سيرة النبي علي صلى الله 184 جلد 7 آپ منبر پر چڑھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اے لوگو! میں تم کو اس جنگ میں جانے والے لشکر کے متعلق خبر دیتا ہوں ۔ وہ لشکر یہاں و سے جا کر دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہوا اور لڑائی شروع ہونے پر پہلے زید مارے گئے پس تم لوگ زیڈ کے لئے دعا کرو۔ پھر جھنڈے کو جعفر نے پکڑ لیا اور دشمن دشمن پر حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی مارے گئے پس تم اس کے لئے بھی دعا کرو۔ پھر جھنڈے کو عبداللہ بن رواحہ نے پکڑ لیا اور خوب دلیری سے لشکر کو لڑایا مگر آخر وہ بھی شہید ہو گئے پس تم اُن کے لئے بھی دعا کرو ۔ پھر جھنڈے کو خالد بن ولید نے پکڑ لیا۔ اُس کو میں نے کمانڈر مقرر نہیں کیا تھا مگر اُس نے اپنے آپ کو آپ ہی کمانڈر مقرر کر لیا۔ لیکن وہ خدا تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ پس وہ خدا تعالیٰ کی مدد سے اسلامی لشکر کو بحفاظت واپس لے کر لوٹا ۔ آپ کی اس تقریر کی وجہ سے خالد کا نام مسلمانوں میں خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار مشہور ہو گیا 169 ۔ چونکہ خالد آخر میں ایمان لائے تھے بعض صحابہ ان کو مذاقاً یا کسی جھگڑے کے موقع پر طعنہ دے دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کسی ایسی ہی بات پر حضرت عبد الرحمن بن عوف سے ان کی تکرار ہو گئی ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالد کی شکایت کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خالد ! تم اس شخص کو جو کہ بدر کے وقت سے اسلام کی خدمت کر رہا ہے کیوں دکھ دیتے ہو؟ اگر تم اُحد کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو اس کے برابر خدا تعالیٰ سے انعام حاصل نہیں کر سکتے ۔ اس پر خالد نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ مجھے طعنہ دیتے ہیں تو پھر میں بھی جواب دیتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ خالد کو تکلیف نہ دیا کرو۔ یہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو خدا تعالیٰ نے کفار کی ہلاکت کے لئے کھینچی ہے 170 ۔ یہ پیشگوئی چند سالوں بعد حرف بحرف پوری ہوئی۔ جب خالد اپنے لشکر کو واپس لائے تو مدینہ کے صحابہ جو ساتھ نہ گئے تھے اُنہوں نے اس کے لشکر کو بھگوڑے کہنا شروع کیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ تم کو وہیں لڑ کر مر جانا چاہئے