سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 198
سيرة النبي علي ة صلى الله 183 جلد 7 جعفر بن ابی طالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا زاد چا زاد بھائی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فوج کی کمان سنبھال لی۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ دشمن کی فوج کا ریلا بڑھتا چلا جاتا ہے اور مسلمان اپنی تعداد کی قلت کی وجہ سے ان کے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے تو آپ جوش سے گھوڑے سے کود پڑے اور اپنے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں ۔ جس کے معنی یہ تھے کہ کم سے کم میں تو اس میدان سے بھاگنے کے لئے تیار نہیں ہوں میں موت کو پسند کروں گا مگر بھاگنے کو پسند نہیں کروں گا ۔ یہ ایک عربی رواج تھا۔ وہ گھوڑے کی ٹانگیں اس لئے کاٹ دیتے تھے تا کہ وہ بغیر سوار کے اِدھر اُدھر بھاگ کر لشکر میں تباہی نہ مچائے ۔ تھوڑی دیر کی لڑائی میں آپ کا دایاں بازو کاٹا گیا۔ تب آپ نے بائیں ہاتھ سے جھنڈا پکڑ لیا۔ پھر آپ کا بایاں ہاتھ بھی کاٹا گیا تو آپ نے دونوں ہاتھ کے ٹنڈوں سے جھنڈے کو اپنے سینہ سے لگا لیا اور میدان میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے ۔ تب عبداللہ بن رواحہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت جھنڈے کو پکڑ لیا اور وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے مارے گئے ۔ اُس وقت مسلمانوں کے لئے کوئی موقع نہ تھا کہ وہ مشورہ کر کے کسی کو اپنا سردار مقرر کرتے اور قریب تھا کہ دشمن کے لشکر کی کثرت کی وجہ سے مسلمان میدان چھوڑ جاتے کہ خالد بن ولید نے ایک دوست کی تحریک پر جھنڈا پکڑ لیا اور شام تک دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔ دوسرے دن پھر خالد اپنے تھکے ہوئے اور زخم خوردہ لشکر کو لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے اور انہوں نے یہ ہوشیاری کی کہ لشکر کے اگلے حصہ کو پیچھے کر دیا اور پچھلے حصہ کو آگے کر دیا اور دائیں کو بائیں اور بائیں کو دائیں اور اس طرح نعرے لگائے کہ دشمن سمجھا کہ مسلمانوں کو اور مدد پہنچ گئی ہے۔ اس پر دشمن پیچھے ہٹ گیا اور خالد اسلامی لشکر کو بچا کر واپس لوٹ آئے 168۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی خبر اُسی دن وحی کے ذریعہ سے دے دی اور آپ نے اعلان کر کے سب مسلمانوں کو مسجد میں جمع کیا۔ جب