سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 202
سيرة ة النبي علي صلى الله 187 جلد 7 آگ جلائی جائے ۔ جنگل میں دس ہزار اشخاص کے لئے خیموں کے آگے بھڑکتی ہوئی آگ ایک ہیبت ناک نظارہ پیش کر رہی تھی ۔ ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا ۔ یہ کیا ہے؟ کیا آسمان سے کوئی لشکر اُترا ہے؟ کیونکہ عرب کی کسی قوم کا لشکر اتنا بڑا نہیں ہے۔ اس کے ساتھیوں نے مختلف قبائل کے نام لئے لیکن اس نے کہا نہیں نہیں عرب کی کسی قوم کا لشکر بھی اتنا بڑا نہیں ۔ ابھی وہ یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اندھیرے میں سے آواز آئی ابو حنظلہ ! ( یہ ابوسفیان کی کنیت تھی ) ابوسفیان نے کہا عباس ! تم یہاں کہاں؟ اُنہوں نے جواب دیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر سامنے پڑا ہے اور اگر تم لوگوں نے جلدی کوئی تدبیر نہ کی تو شکست اور ذلت تمہارے لئے مقدر ہو چکی ہے۔ چونکہ وہ ابوسفیان کے پرانے دوست تھے اس لئے یہ بات کرنے کے بعد انہوں نے ابوسفیان سے اصرار کیا کہ وہ ان کے ساتھ سواری پر بیٹھ جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو۔ چنانچہ انہوں نے اُس کا ہاتھ کھینچ کر اونٹ پر اپنے ساتھ بٹھا لیا اور اونٹ کو ایڑی لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے ۔ حضرت کو عباس ڈرتے تھے کہ حضرت عمرؓ جو اُن کے ساتھ پہرہ پر مقرر تھے کہیں اس کو قتل نہ کر دیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی فرما چکے تھے کہ اگر ابوسفیان تم میں سے کسی کو ملے تو اُسے قتل نہ کرنا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ابوسفیان کو حاضر کیا تو یہ سارا نظارہ ابوسفیان کے دل میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر چکا تھا۔ ابو سفیان نے دیکھا کہ چند ہی سال پہلے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک ساتھی کے ساتھ مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن ابھی سات ہی سال گزرے ہیں کہ وہ دس ہزار قدوسیوں سمیت مکہ پر بلا ظلم اور بلا تعدی کے جان جائز طور پر حملہ آور ہوا ہے اور مکہ والوں میں طاقت نہیں کہ اس کو روک سکیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس تک پہنچتے ہوئے کچھ ان خیالات کی وجہ سے اور کچھ دہشت اور خوف کی وجہ سے ابوسفیان مبہوت سا ہو چکا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی علیہ