سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 193

سيرة النبي علي صلى الله 178 جلد 7 لکھ رہا ہوں لیکن اس واقعہ کا ایک ایسا پہلو ہے جو مجھے مجبور کرتا ہے کہ اس معمولی سے واقعہ کو اس جگہ لکھ دوں اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اُن کی کئی بیویاں تھیں اور یہ کہ آپ کا یہ فعل نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ عیاشی پر بنی تھا مگر جب ہم اس تعلق کو دیکھتے ہیں جو آپ کی بیویوں کو آپ کے ساتھ تھا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ آپ کا تعلق ایسا پاکیزہ، ایسا بے لوث اور ایسا روحانی تھا کہ کسی ایک بیوی والے مرد کا تعلق بھی اپنی بیوی سے ایسا نہیں ہوتا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اپنی بیویوں سے عیاشی کا ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے تھا کہ آپ کی بیویوں کے دل کسی روحانی جذبہ سے متاثر نہ ہوتے۔ مگر آپ کی بیویوں کے دل میں آپ کی جو محبت تھی اور آپ سے جو نیک اثر انہوں نے لیا تھا وہ بہت سے ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے۔ مثلاً یہی واقعہ کتنا چھوٹا سا تھا کہ میمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی دفعہ حرم سے باہر ایک خیمہ میں ملیں ۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُن سے تعلق کوئی جسمانی تعلق ہوتا اور اگر آپ بعض بیویوں کو بعض پر ترجیح دینے والے ہوتے تو میمونہ اس واقعہ کو اپنی زندگی کا کوئی اچھا واقعہ نہ سمجھتیں بلکہ کوشش کرتیں کہ یہ واقعہ اُن کی یاد سے بھول جائے ۔ لیکن میمونہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پچاس سال زندہ رہیں اور 80 سال کی ہو کر فوت ہوئیں ۔ مگر اس برکت والے تعلق کو وہ ساری عمر بھلا نہ سکیں ۔ 80 سال کی عمر میں جب جوانی کے جذبات سب سرد ہو چکے ہوتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچاس سال بعد جو عرصہ ایک مستقل عمر کہلانے سے کا مستحق ہے میمونہ فوت ہوئیں اور اُس وقت اُنہوں نے اپنے اردگرد کے لوگوں درخواست کی کہ جب میں مر جاؤں تو مکہ کے باہر ایک منزل کے فاصلہ پر اس جگہ جس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ تھا اور جس جگہ پہلی دفعہ مجھے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا میری قبر بنائی جائے اور اُس میں مجھے دفن کیا جائے 167۔ دنیا میں