سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 194
صلى الله سيرة النبي علي 179 جلد 7 سچے نوادر بھی ہوتے ہیں اور قصے کہانیاں بھی مگر سچے نوادر میں سے بھی اور قصے کہانیوں میں سے بھی کیا کوئی واقعہ اس گہری محبت سے زیادہ پُر تاثیر پیش کیا جا سکتا ہے؟ خالد بن ولید اور عمرو زیارت کعبہ سے واپسی کے بعد جلد ہی دو ایسے بن العاص کا قبول اسلام آدمی اسلام میں داخل ہوئے جو اسلامی جنگوں کے شروع سے لے کر اس وقت تک کفار کے زبر دست جرنیلوں میں شامل تھے اور جو اسلام لانے کے بعد اسلام کے ایسے مشہور جرنیل ثابت ہوئے کہ تاریخ اسلام میں سے ان لوگوں کا نام مٹایا نہیں جا سکتا۔ یعنی خالد بن ولید جس نے بعد میں روما کی حکومت کی بنیادیں ہلا دیں اور علاقہ کے بعد علاقہ فتح کر کے اسلامی حکومت میں داخل کیا اور عمرو بن العاص جنہوں نے مصر کو فتح کر کے اسلامی حکومت میں شامل کیا۔ سے جنگ موتہ جب آپ زیارت کعبہ سے واپس آئے تو آپ کو اطلاعات ملنی شروع ہوئیں کہ شام کی سرحد پر عیسائی عرب قبائل یہودیوں اور کفار - کے اکسانے پر مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ چنانچہ آپ نے پندرہ آدمیوں کی ایک پارٹی اس غرض کے لئے شام کی سرحد پر بھجوائی کہ وہ تحقیقات کریں کہ یہ افواہیں کہاں تک صحیح ہیں ۔ جب یہ لوگ شامی سرحد پر پہنچے تو وہاں دیکھا کہ ایک لشکر جمع ہو رہا ہے ۔ بجائے اس کے کہ یہ لوگ واپس آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتے تبلیغ کا جوش جو اُس زمانہ میں مومن کی سچی علامت ہوا کرتا تھا اُن پر غالب آگیا اور دلیری سے آگے بڑھ کر انہوں نے اُن لوگوں کو اسلام کی دعوت دینی شروع کر دی۔ جو لوگ دشمنوں کے اکسائے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وطن پر حملہ کر کے اُسے فتح کرنا چاہتے تھے وہ ان لوگوں کی توحید کی تعلیم سے بھلا کہاں متاثر ہو سکتے تھے ۔ جونہی ان لوگوں نے اُن کو اسلام کی تعلیم سنانی شروع کی چاروں طرف سے سپاہیوں نے کمانیں سنبھال لیں اور اُن پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔