سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 192

صلى الله سيرة النبي علي 177 جلد 7 اُن کے دل ایک طرف ان لمبے مظالم کی یاد کر کے خون بہا رہے تھے جو مکہ میں ان پر کئے جاتے تھے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے اس فضل کو دیکھ کر کہ پھر خدا تعالیٰ نے اُنہیں کعبہ کے طواف کا موقع نصیب کیا ہے وہ خوش بھی ہو رہے تھے ۔ مکہ کے لوگ مکہ سے نکل کر پہاڑ کی چوٹیوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔ مسلمانوں کا دل چاہتا تھا کہ آج وہ ان پر ظاہر کر دیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں پھر مکہ میں داخل ہونے کی توفیق بخشی یا نہیں ۔ چنانچہ عبداللہ بن رواحہ نے اس موقع پر جنگی گیت گانے شروع کئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا اور فرمایا ایسے شعر نہ پڑھو بلکہ یوں کہو کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کی مدد کی اور مومنوں کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر اونچا کیا۔ صرف خدا ہی ہے جس نے دشمنوں کو ان کے سامنے سے بھگا دیا۔ طواف کعبہ اور سعی بین الصفا والمروہ سے فراغت کے بعد آپ صحابہ سمیت تین دن تک مکہ میں ٹھہرے ۔ حضرت عباس کی سالی میمونہ جو دیر سے بیوہ ہو چکی تھیں مکہ میں تھیں حضرت عباس نے خواہش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے شادی کر لیں اور آپ نے اسے منظور فرمالیا۔ چوتھے دن مکہ والوں مطالبہ کیا کہ آپ حسب معاہدہ مکہ سے نکل جائیں اور آپ نے فوراً نے فوراً تمام صحابہ کو حکم دیا کہ فوراً مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہو جائیں ۔ مکہ والوں کے احساسات کا خیال کر کے نئی بیاہی ہوئی میمونہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ بعد میں اسباب کی سواریوں کے ساتھ آجائیں اور خود اپنی سواری دوڑا کر حرم کی حدود سے باہر نکل گئے اور وہیں شام کے وقت آپ کی بیوی میمونہ کو پہنچایا گیا اور پہلی رات وہیں جنگل میں میمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئیں 166۔ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہ واقعہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو ایسی مختصر سیرت میں بیان کیا جاتا تعدد ازواج پر اعتراض کا جواب جس قسم کی سیرت میں اس وقت