سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 191

صلى الله سيرة النبي علي 176 جلد 7 بیمار رہے اور اس کے بعد فوت ہو گئے ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ گوشت اس کا ایک کتے کے آگے ڈلوایا جس کے کھانے سے وہ مر گیا ۔ تب رسول اللہ اس کا ایک کتے کے آگے ڈلوایا جس کے کھانے صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا اور فرمایا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟ اس نے کہا آپ کو یہ کس نے بتایا ہے؟ آپ کے ہاتھ میں اُس وقت بکری کا دست تھا آپ نے فرمایا اس ہاتھ نے مجھے بتایا ہے ۔ اس پر اس عورت نے سمجھ لیا کہ آپ پر یہ راز کھل گیا ہے اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے زہر ملایا ہے اس پر آپ نے اس سے پوچھا کہ اس نا پسندیدہ فعل پر تم کو کس بات نے آمادہ کیا ؟ اُس نے جواب دیا کہ میری قوم سے آپ کی لڑائی ہوئی تھی اور میرے رشتہ دار اس لڑائی میں مارے گئے تھے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں ان کو زہر دے دوں ۔ اگر ان کا کاروبار انسانی کاروبار ہوگا تو ہمیں ان سے نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ واقعہ میں نبی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کو خود بچالے گا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن کر اُسے معاف فرمادیا 165 اور اُس کی سزا جو یقینا قتل تھی نہ دی ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے مارنے والوں پر اور اپنے دوستوں کے مارنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے اور در حقیقت اُسی وقت آپ سزا دیا کرتے تھے جب کسی شخص کا زندہ رہنا آئندہ بہت سے فتنوں کا موجب ہوس ہو سکتا تھا۔ طواف کعبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کعبہ ہجرت کے ساتویں سال فروری 629ء میں معاہدہ کی رو سے رسول اللہ نے طواف کے لئے جانا تھا ۔ چنانچہ جب وہ وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریباً دو ہزار آدمیوں سمیت طواف کعبہ کے لئے روانہ ہوئے ۔ جب آپ مر الظہران تک پہنچے جو مکہ سے ایک پڑاؤ پر ہے تو معاہدہ کے مطابق آپ نے تمام بھاری ہتھیار اور زر ہیں وہاں جمع کر دیں اور خود اپنے صحابہ سمیت معاہدہ کے مطابق صرف نیام بند تلواروں کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے۔ سات سالہ جلا وطنی کے بعد مہاجرین کا مکہ میں داخل ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھا۔