سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 187
صلى الله سيرة النبي علي 172 جلد 7 مدینہ سے اور بھی پرے دھکیل دیا جائے کیونکہ اگر وہ مدینہ کے قریب رہتے تو یقیناً اور بھی زیادہ خونریزیوں اور شرارتوں اور سازشوں کے مرتکب ہوتے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ سے واپس آنے کے قریباً پانچ ماہ بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہودیوں کو خیبر سے جو مدینہ سے صرف چند منزل کے فاصلہ پر تھا اور جہاں سے مدینہ کے خلاف آسانی سے سازش کی جا سکتی تھی نکال دیا جائے ۔ چنانچہ آپ نے سولہ سو صحابہ کے ساتھ اگست 628 ء میں خیبر کی طرف کوچ فرمایا۔ خیبر ایک قلعہ بند شہر تھا اور اس کے چاروں طرف چٹانوں کے اوپر قلعے بنے ہوئے تھے۔ ایسے مضبوط شہر کو اتنے تھوڑے سے۔ سے سپاہیوں کے ساتھ فتح کر لینا کوئی آسان بات نہ تھی ۔ اردگرد کی چھوٹی چھوٹی چوکیاں تو چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے بعد فتح ہو گئیں لیکن جب یہودی سمٹ سمٹا کر شہر کے مرکزی قلعہ میں آگئے تو اس کے فتح کرنے کی تمام تدابیر بیکار جانے لگیں ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ اس شہر کی فتح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مقدر ہے آپ نے صبح کے وقت یہ اعلان کیا کہ میں اسلام کا سیاہ جھنڈا آج اس کے ہاتھ میں دوں گا جس کو خدا اور اس کا رسول اور مسلمان پیار کرتے ہیں خدا تعالیٰ نے اس قلعہ کی فتح اس کے ہاتھ پر مقدر کی ہے۔ اس کے بعد دوسری صبح آپ نے حضرت علیؓ کو بلایا اور جھنڈا اُن کے سپر د کیا جنہوں نے صحابہؓ کی فوج کو ساتھ لے کر قلعہ پر حملہ کیا۔ باوجود اس کے کہ یہودی قلعہ بند تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ اور دوسرے صحابہؓ کو اُس دن ایسی قوت بخشی کہ شام سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہو گیا 161 اور اس بات پر صلح ہوئی کہ تمام یہودی اور ان کے بیوی بچے خیبر چھوڑ کر مدینہ سے دور چلے جائیں اور ان کے تمام اموال مسلمانوں کے حق میں ضبط ہوں گے اور یہ کہ جو شخص اس معاملہ میں جھوٹ سے کام لے گا اور کوئی مال یا جنہیں چھپا کر رکھے گا وہ اس معاہدہ کی حفاظت میں نہیں آئے گا اور غداری کی سزا کا مستحق ہوگا ۔