سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 186

سيرة النبي علي صلى الله 171 جلد 7 آئے ۔ بعضوں نے ادب اور احترام کے ساتھ خط تو قبول کر لئے لیکن اسلام نہ لائے ۔ بعضوں نے معمولی شرافت دکھائی اور بعضوں نے خود پسندی اور کبر کا نمونہ دکھا یا لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں اور دنیا کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اُن میں سے ہر بادشاہ اور قوم کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کیا گیا جیسا اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوں کے ساتھ معاملہ کیا تھا۔ قلعہ خیبر کی تسخیر جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے یہودی اور کفار عرب مسلمانوں کے خلاف اردگرد کے قبائل کو ابھار رہے تھے اور اب یہ دیکھ کر کہ عرب میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ مسلمانوں کو تباہ کر سکیں یا مدینہ پر جا کر حملہ کر سکیں ۔ یہودیوں نے ایک طرف تو رومی حکومت کی جنوبی سرحد پر رہنے والے عرب قبائل کو جو مذہباً عیسائی تھے اکسانا شروع کیا اور دوسری طرف انہوں نے اپنے ان ہم مذہبوں کو جو عراق میں رہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چٹھیاں لکھنی شروع کیں تا کہ وہ کسری کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں۔ میں یہ بھی تاکہ بھڑ او پر لکھ چکا ہوں کہ اس شرارت کے نتیجہ میں کسری مسلمانوں کے خلاف سخت بھڑک گیا تھا اور اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے یمن کے گورنر کو حکم بھی دے دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو محفوظ رکھا اور کسری اور یہودیوں کی تدبیر کو نا کام کر دیا۔ ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہوتا تو جہاں تک مادی سامانوں کا تعلق ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کسری اور دوسری طرف قیصر کے لشکروں کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے۔ خدا ہی تھا جس نے کسری کو مار دیا اور اس کے بیٹے سے یہ حکم جاری کروایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں کوئی کارروائی نہ کی جائے اور اس نشان کو دیکھ کر یمن کے حکام اسلام لے آئے اور یمن کا صوبہ بغیر لشکر کشی کے اسلامی حکومت میں داخل ہو گیا ۔ یہ صورت حالات جو یہود نے پیدا کر دی تھی اس بات کی متقاضی تھی کہ یہود کو کو