سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 185

لله صلى الله سيرة ابي عليه 170 جلد 7 بہت سے ساتھی آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور میرے ملک میں کچھ یہودی اور مجوسی بھی رہتے ہیں آپ اُن کے بارہ میں مجھے حکم دیں کم دیں کہ میں ان سے کیا سلوک کروں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خط لکھا جس کی عبارت یہ تھی کہ ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تم نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ جو پیغامبر میری طرف سے آئیں تم اُن کے احکام کی اتباع کیا کرو کیونکہ جو ان کی ابتاع کرے گا وہ میری اتباع کرے گا ۔ جو میرا سفیر تمہاری طرف گیا تھا اُس نے تمہاری بہت تعریف کی ہے اور ظاہر کیا ہے کہ تم نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میں نے خدا تعالیٰ سے تمہاری قوم کے بارہ میں دعا کی ہے۔ پس مسلمانوں میں اسلامی طور و طریق جاری کرو اور ان کے اموال کی حفاظت کرو اور چار بیویوں سے زیادہ کسی کو اپنے گھر میں رکھنے کی اجازت نہ دو اور مسلمان ہونے والوں سے جو گناہ پہلے ہو چکے ہیں وہ انہیں معاف کئے جائیں اور جب تک تم نیکی پر قائم رہو گے تمہیں اپنی حکومت سے معزول نہیں کیا جائے گا اور جو یہودی یا مجوس ہیں ان پر صرف ایک ٹیکس مقرر ہے اور کوئی مطالبہ ان سے نہ کرنا اور اپنے ملک کے لوگوں کی نسبت یہ خیال کرو کہ جن لوگوں کے پاس زمین گزارہ کے لئے نہیں ہے ان میں سے ہر شخص کو چار روپے اور لباس گزارہ کے لئے دیا جائے 160۔ کے اس کے علاوہ آپ نے عمان کے بادشاہ اور بیمامہ کے سردار اور غسان بادشاہ اور یمن کے قبیلہ بنی نہد کے سردار اور یمن کے قبیلہ ہمدان کے سردار اور بنی علیم کے سردار اور حضر می قبیلہ کے سردار کی طرف بھی خطوط لکھے۔ جن میں سے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے ۔ ان خطوط کا لکھنا بتاتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ پر کیسا کامل یقین رکھتے تھے اور کس طرح شروع سے ہی آپ کو یقین تھا کہ آپ کسی ایک قوم کی طرف نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے بلکہ آپ ساری اقوام کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن بادشاہوں اور رئیسوں کو خط لکھے گئے تھے ان میں سے بعض اسلام لے