سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 188
سيرة النبي علي 173 جلد 7 تین عجیب واقعات اس جنگ میں تین عجیب واقعات پیش آئے کہ اُن میں سے ایک تو خدا تعالیٰ کے ایک نشان پر دلالت کرتا ہے اور دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ پر۔ نشان تو یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد جب خیبر کے رئیس کنانہ کی بیوی صفیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تو آپ نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر کچھ لمبے لمبے نشان ہیں ۔ آپ نے فرمایا صفیہ! تمہارے یہ نشان کیسے ہیں؟ اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! ایک دن میں نے ایک خواب دیکھی کہ چاند گر کر میری جھولی میں آپڑا ہے۔ میں نے دوسرے دن یہ خواب اپنے خاوند کو سنائی میرے خاوند نے کہا یہ عجیب خواب ہے تمہارا باپ بڑا عالم آدمی ہے اُس کو چل کر یہ خواب سنانی چاہئے ۔ چنانچہ میں نے اپنے باپ سے اس خواب کا ذکر کیا تو خواب سنتے ہی اُس نے زور سے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا نالائق ! کیا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے ! 162 یہ اس نے اس لئے کہا کہ عرب کا قومی نشان چاند تھا۔ اگر کوئی خواب میں یہ دیکھتا کہ چاند اس کی جھولی میں آپڑا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کے بادشاہ کے ساتھ اس کا تعلق ہو گیا ہے اور اگر کوئی خواب میں دیکھتا کہ چاند پھٹ گیا ہے یا گر گیا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کی حکومت میں تفرقہ پڑ گیا ہے یا وہ تباہ ہو گئی ہے۔ - یہ خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا ایک نشان ہے اور اس بات کا بھی نشان ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب کی خبریں دیتا رہتا ہے۔ گو مومنوں کو زیادہ اور غیر مومنوں کو کم ۔ حضرت صفیہ ابھی یہودی ہی تھیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے یہ مصفی غیب عطا فرمایا جس کے مطابق ان کا خاوند معاہدہ کی خلاف ورزی کی سزا میں مارا گیا اور وہ باوجود اس کے کہ ایک اور صحابی کی قید میں گئی تھیں بعض لوگوں کے اصرار پر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور اس طرح وہ غیب پورا ہوا جو خدا تعالیٰ نے انہیں بتایا تھا۔