سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 178

ة سيرة النبي علي صلى الله 163 جلد 7 خط محمد رسول اللہ نے کسری فارس کے سردار کی طرف لکھا ہے۔ جو شخص کامل ہدایت کی اتباع کرے اور اللہ پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اُس پر خدا کی سلامتی ہو۔ اے بادشاہ! میں تجھے خدا کے حکم کے ماتحت اسلام کی طرف بلاتا ہوں کیونکہ میں تمام انسانوں کی طرف خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تا کہ ہر زندہ شخص کو میں ہوشیار کر دوں اور کافروں پر حجت تمام کر دوں ۔ تو اسلام کو قبول کرتا تو ہر ایک فتنہ سے محفوظ رہے اگر تو اس دعوت سے انکار کرے گا تو سب مجوس کا گناہ تیرے ہی سر پر ہوگا۔ عبدالله بن حذافہ کہتے ہیں کہ جب میں کسری کے دربار میں پہنچا تو میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی جو دی گئی ۔ جب میں نے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط کسری کے ہاتھوں میں دیا تو اُس نے ترجمان کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔ جب ترجمان نے اس کا ترجمہ پڑھ کر سنایا تو کسری نے غصہ سے خط پھاڑ دیا۔ جب عبداللہ بن حذافہ نے یہ خبر آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تو آپ نے فرمایا کسری نے جو کچھ ہمارے خط کے ساتھ کیا خدا تعالیٰ اس کی بادشاہت کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔ کسری کی اس حرکت کا باعث یہ تھا کہ عرب کے یہودیوں نے اُن یہودیوں کے ذریعہ سے جو روم کی حکومت سے بھاگ کر ایران کی حکومت میں چلے گئے تھے اور بوجہ رومی حکومت کے خلاف سازشوں میں کسری کا ساتھ دینے کے کسری بہت منہ چڑھے ہوئے تھے کسری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہت بھڑ کا رکھا تھا۔ جو شکایتیں وہ کر رہے تھے اس خط نے کسری کے خیال میں اُن کی تصدیق کر دی اور اس نے سمجھا کہ یہ شخص میری حکومت پر نظر رکھتا ہے ۔ چنانچہ اس خط کے معا بعد کسری نے اپنے یمن کے گورنر کو ایک چٹھی لکھی جس کا مضمون یہ تھا کہ قریش میں سے ایک شخص نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے اور اپنے دعووں میں بہت بڑھتا چلا جاتا کے